🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. صاحب الدابة أحق بصدر دابته
سواری والے جانور کی اگلی جگہ کا زیادہ حق اس کے مالک کو ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2401
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هِلال، حدثنا علي بن الحَسن بن شقيق، حدثنا الحُسين بن واقِد، حدثني عبد الله بن بُريدة، عن أبيه: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ بحِمار وهو يمشي، فقال: اركَبْ يا رسول الله، فقال:"إنَّ صاحبَ الدابَّةِ أحقُّ بصَدْرِ دابَّتِه إلّا أن تجعلَه لي" قال: قد فَعَلْتُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2370 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گدھا لے کر آیا، اس وقت آپ پیدل چل رہے تھے، اس آدمی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سوار ہو جایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور کا مالک آگے سوار ہونے کا زیادہ حقدار ہے البتہ اگر تم خود ہی مجھے آگے بٹھا دو (تو کوئی حرج نہیں) اس نے کہا: تو میں نے ایسا کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2401]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2401 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي من أجل الحسين بن واقد، فهو صدوق لا بأس به، وإبراهيم بن هلال حسن الحديث وهو متابَع.
⚖️ درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر "صحیح لغیرہ" ہے؛ حسین بن واقد صدوق ہیں اور ابراہیم بن ہلال کی حدیث "حسن" ہوتی ہے، نیز اس کے متابعات موجود ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (22992)، وابن حبان (4735) من طريق زيد بن الحباب، وأبو داود (2572)، والترمذي (2773) من طريق علي بن الحُسين بن واقد، كلاهما عن الحسين بن واقد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے حسین بن واقد کے مختلف بیٹوں اور شاگردوں کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقد رواه حبيب بن الشهيد عن عبد الله بن بريدة، فأرسله، أخرجه من طريقه ابن أبي شيبة 8/ 561، والبيهقي 5/ 258.
🔍 فنی نکتہ / علّت: حبیب بن الشہید نے اسے عبداللہ بن بریدہ سے "مرسل" روایت کیا ہے۔
وله شواهد استوفينا ذكرها في "مسند أحمد" عند حديث بريدة هذا.
🧩 متابعات و شواہد: اس کے تمام شواہد ہم نے مسند احمد میں حدیث بریدہ کے تحت تفصیل سے ذکر کر دیے ہیں۔