المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. كِتَابُ : الْجِهَادِ
کتاب الجہاد۔
حدیث نمبر: 2411
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن أبي الخَير، عن أبي الخطّاب، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ عامَ تبوكَ خَطَبَ الناسَ وهو مُضِيفٌ ظَهْرَه إلى نخلة، فقال:"ألا أُخبِرُكُم بخيرِ الناس وشرِّ الناسِ، إنَّ مِن خيرِ الناسِ رجل (1) عَمِلَ في سبيل الله على ظَهْر فَرسِه، أو على ظهر بَعيرِه، أو على قَدَمَيه، حتى يأتيَه الموتُ، وإنَّ من شرّ الناسِ رجل فاجر جَريء، يقرأَ كتابَ الله، لا يَرْعَوِي إلى شيءٍ منه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2380 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2380 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال لوگوں کو خطبہ دیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے درخت کے تنے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں لوگوں میں سے سب سے بہتر اور سب سے بدتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یقیناً لوگوں میں سے بہتر وہ شخص ہے جس نے اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر یا اپنے اونٹ کی پیٹھ پر یا اپنے قدموں پر چل کر عمل کیا یہاں تک کہ اسے موت آ جائے، اور لوگوں میں سے بدترین وہ گناہ گار اور نڈر شخص ہے جو اللہ کی کتاب تو پڑھتا ہے لیکن اس (کی وعیدوں اور احکامات) میں سے کسی چیز سے باز نہیں آتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2411]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2411]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي الخطاب - وهو المصري - وله طريق أخرى فيها انقطاع لكنها بانضمامها لهذه الطريق يتحسن الحديثُ إن شاء الله، مع ما له من شواهد. ابن وهب: هو عبد الله، وأبو الخير: هو مرثد بن عبد الله اليزني.» [ترقيم الرساله 2411] [ترقيم الشركة 2393] [ترقيم العلميه 2380]
الحكم على الحديث: حديث حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2411 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا ورد هذا الاسم هنا وفي الجملة التالية على صورة المرفوع، مع أن حقّه النصب، وتخريج ذلك كما يقول السِّندي في "حاشيته على النسائي" 6/ 12 بأنه إما منصوب وترك الألف كتابة في المنصوب عندهم كثير، أو مرفوع والتقدير: إنَّ الشأن من خير الناس رجلٌ.
📝 علمِ نحو: یہ لفظ یہاں "مرفوع" حالت میں ہے جبکہ قاعدے کے اعتبار سے اسے "منصوب" ہونا چاہیے تھا۔ سندی کے مطابق اسے محذوف عبارت کی خبر مان کر مرفوع پڑھا جائے گا۔
(2) حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي الخطاب - وهو المصري - وله طريق أخرى فيها انقطاع لكنها بانضمامها لهذه الطريق يتحسن الحديثُ إن شاء الله، مع ما له من شواهد. ابن وهب: هو عبد الله، وأبو الخير: هو مرثد بن عبد الله اليزني.
⚖️ درجۂ حدیث: اپنی دوسری سند اور شواہد کی وجہ سے یہ "حدیث حسن" ہے، اگرچہ اس خاص سند میں ابو الخطاب مجہول راوی ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (11319) و (11374) و 18/ (11569)، والنسائي (4299) من طرق عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد اور نسائی نے اسے لیث بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن المبارك في "الجهاد" (168) عن هشام بن سعد، عن سعيد بن أبي هلال قال: قال أبو سعيد الخُدْري، فذكر نحوه. وإسناده منقطع لأنَّ سعيد بن أبي هلال ممَّن عاصر صغار التابعين.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن المبارک کی روایت منقطع ہے کیونکہ سعید بن ابی ہلال نے ابو سعید خدری کو نہیں پایا۔
ويشهد لشطره الأول عموم حديث أبي عَبْس عند البخاري (907) و (2811) بلفظ: "من اغبرَّت قدماه في سبيل الله حرَّمه الله على النار".
🧩 متابعات و شواہد: اس کے پہلے حصے کا شاہد بخاری (907) کی وہ روایت ہے جس میں ہے کہ جس کے پاؤں اللہ کی راہ میں خاک آلود ہوئے، اللہ اس پر آگ حرام کر دے گا۔
ولشطره الثاني شاهد من حديث أبي سعيد عند البخاري (3610)، ومسلم (1064) في ذكر ذي الخويصرة التميمي واعتراضه على رسول الله ﷺ في القَسْم، ولفظه "إنَّ له أصحابًا يحقر أحدكم صلاته مع صلاتهم وصيامه مع صيامهم، يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرَّمِيّة" الحديث.
🧩 متابعات و شواہد: دوسرے حصے کا شاہد بخاری و مسلم کی وہ روایت ہے جو خوارج کے بارے میں ہے، کہ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
ونحوه عن سهل بن حنيف عند البخاري (6934)، ومسلم (1068)، وعن علي بن أبي طالب عند مسلم (1066).
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح کی روایات سہل بن حنیف سے بھی بخاری و مسلم میں مروی ہیں۔
وعن ابن مسعود عند مسلم (822) بلفظ: "إنَّ أقوامًا يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم".
📖 حوالہ / مصدر: ابن مسعود سے بھی صحیح مسلم (822) میں اسی طرح کے الفاظ مروی ہیں۔
كما يشهد له حديث سمرة بن جندب عند البخاري (1386) في رؤيا رآها النبي ﷺ بلفظ: "الذي رأيته يُشدخ رأسُه فرجل علمه الله القرآن، فنام عنه بالليل، ولم يعمل فيه بالنهار، يفعل به إلى يوم القيامة".
🧩 متابعات و شواہد: بخاری (1386) میں سمرہ بن جندب کی طویل حدیث (خوابِ رسول) بھی اس کی تائید کرتی ہے، خصوصاً اس شخص کے بارے میں جس کا سر کچلا جا رہا تھا کیونکہ وہ قرآن پڑھ کر اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔
وانظر حديث أبي سعيد الآتي برقم (2421). ¤ ¤ قوله: "مُضيف ظهره" أي: مُسنِدُه.
📝 لغوی تشریح: "مضیف ظہرہ" کا مطلب ہے اپنی پیٹھ کو سہارا دے کر ٹیک لگانا۔
وقوله: "لا يَرعَوِي" أي: لا يَنْكَفُّ ولا يَنْزجِرُ.
📝 لغوی تشریح: "لا یرعوی" کا مطلب ہے باز نہ آنا یا نصیحت حاصل نہ کرنا۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2411 in Urdu