المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. يوم فى سبيل الله خير من ألف يوم فيما سواه
اللہ کی راہ میں ایک دن گزارنا اس کے سوا ہزار دنوں سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 2412
أخبرني الحسن بن حليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا محمد بن مَعْن الغِفاري أبو مَعْن، حدثنا زُهْرة بن مَعْبد القرشي، عن أبي صالح مولى عثمان، قال: سمعت عثمان بن عفّان في مسجد الخَيْف بمنًى، وحدثنا أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"يومٌ في سبيلِ الله خيرٌ من ألفِ يومٍ فيما سواهُ"، فليَنْظُر كلُّ امرئٍ لنفسِه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2381 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2381 - على شرط البخاري
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ منیٰ کی مسجد خیف میں تھے اور انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کی راہ میں (گزارا ہوا) ایک دن اس کے علاوہ دیگر مقامات کے ایک ہزار دنوں سے بہتر ہے۔“ پس ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کے لیے (بھلائی کا) سامان دیکھ لے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2412]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2412]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، أبو صالح مولى عثمان وثقه العجلي وابن حبّان، وقال العجلي: روى عنه زهرة بن معبد وأهل مصر، وحسّن حديثه هذا الترمذي وصحَّحه ابن حبان، واختُلف في اسمه فقيل: بركان، وقيل: الحارث.» [ترقيم الرساله 2412] [ترقيم الشركة 2394] [ترقيم العلميه 2381]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2412 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن، أبو صالح مولى عثمان وثقه العجلي وابن حبّان، وقال العجلي: روى عنه زهرة بن معبد وأهل مصر، وحسّن حديثه هذا الترمذي وصحَّحه ابن حبان، واختُلف في اسمه فقيل: بركان، وقيل: الحارث.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے؛ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام "ابو صالح" ثقہ راوی ہیں۔ امام ترمذی نے اسے حسن اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔
وأخرجه النسائي (4364) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، وابن حبان (4609) من طريق حِبّان بن موسى، كلاهم عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. ولم يذكر ابن مهدي في روايته قوله: فلينظر كل امرئٍ لنفسه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی اور ابن حبان نے عبداللہ بن مبارک کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر ابن مہدی کی روایت میں "پس ہر شخص اپنے نفس کا معاملہ دیکھ لے" کے الفاظ نہیں ہیں۔
وأخرجه أحمد 1/ (442) من طريق عبد الله بن لهيعة، وأحمد (470) و (558)، والترمذي (1667)، والنسائي (4363) من طريق الليث بن سعد، كلاهما عن زُهْرة بن معبد، به. لكن بلفظ: "رباط يوم في سبيل الله … " ولم يذكر الليث في روايته قوله في آخر الحديث: فلينظر كل امرئ لنفسه.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد، ترمذی اور نسائی نے اسے لیث بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے مگر الفاظ یہ ہیں: "اللہ کی راہ میں ایک دن کا پہرہ..." اور آخر کے الفاظ اس میں بھی مروی نہیں ہیں۔
وسيأتي عند المصنف من طريق الليث برقم (2667) و (2668).
📝 نوٹ / توضیح: یہ لیث بن سعد کے طریق سے رقم (2667) اور (2668) پر آئے گی۔
وجزم المنذري في "الترغيب" 2/ 156، وابن كثير في "تفسيره" عند تفسير آخر آية من آل عمران بأنَّ هذا الحرف الأخير مُدرَج من قول عثمان بن عفان غير مرفوع، ويؤيده عدم وُرُوده في رواية ابن مهدي عن ابن المبارك، ولا في رواية الليث بن سعد عن زُهْرة بن معبد، بل جاء في رواية أبي الوليد الطيالسي عن الليث عند الترمذي مُفصِّلًا المرفوع عن الموقوف، حيث قال عثمان في روايته: إني كَتمْتُكُم حديثًا سمعتُه من رسول الله ﷺ كراهيةَ تفرُّقِكم عنّي، ثم بدا لي أن أحدِّثَكموه، ليختار امرؤ لنفسه ما بدا له، ثم ذكر الحديث.
🔍 فنی نکتہ / علّت: علامہ منذری اور ابن کثیر کے نزدیک حدیث کا آخری جملہ "مدرج" (راوی کا اپنا کلام) ہے جو حضرت عثمان کا قول ہے، رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا حصہ نہیں ہے۔ ابو الولید الطیالسی کی روایت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (2457).
📝 نوٹ / توضیح: مزید تفصیل رقم (2457) پر ملاحظہ کریں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2412 in Urdu