المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
59. توديع المنزل بركعتين
گھر سے روانگی کے وقت دو رکعت نماز پڑھنا
حدیث نمبر: 2525
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري وأبو بكر محمد بن جعفر المزكِّي، قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن عبد الكريم، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: خرج رجلٌ من خيبَرَ فتبعه رجلان ورجلٌ يَتلُوهما، يقول: ارجِعا، حتى أَدْرَكَهُما فرَدَّهما، ثم قال: إنَّ هذّين شيطانان، فاقرأْ على رسولِ الله ﷺ السلامَ، وأعلِمْه أنّا في جَمْع صدقاتنا لو كانت تصلُح له لبَعثْنا بها إليه، قال: فلما قَدِمَ على النبي ﷺ حدَّثه، فنهى عند ذلك عن الخَلْوة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2494 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2494 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص خیبر سے نکلا تو دو آدمی اس کے پیچھے ہولیے اور ایک تیسرا شخص ان کے پیچھے یہ کہتا ہوا آ رہا تھا کہ ”تم دونوں واپس لوٹ جاؤ“، یہاں تک کہ اس نے انہیں پا لیا اور واپس بھیج دیا، پھر اس نے (پہلے شخص سے) کہا کہ ”یہ دونوں شیطان تھے، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ ہم اپنے صدقات جمع کر رہے ہیں، اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (استعمال کرنا) حلال ہوتے تو ہم ضرور آپ کی طرف بھیج دیتے“، راوی کہتے ہیں کہ جب وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ واقعہ سنایا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا سفر کرنے سے منع فرما دیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2525]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2525]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عبد الكريم: هو ابن مالك الجَزَري، وعكرمة: هو مولى ابن عباس.» [ترقيم الرساله 2525] [ترقيم الشركة 2508] [ترقيم العلميه 2494]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2525 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح عبد الكريم: هو ابن مالك الجَزَري، وعكرمة: هو مولى ابن عباس.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد الکریم سے مراد ابن مالک الجزری اور عکرمہ سے مراد ابن عباس کے مولیٰ ہیں۔
وأخرجه أحمد 4 / (2510) عن عبد الجبار بن محمد الخطابي، و 4 / (2719) عن زكريا بن عدي، كلاهما عن عبيد الله بن عمرو الرقي، بهذا الإسناد. ¤ ¤ والخَلْوة: السفر منفردًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے عبد الجبار اور زکریا بن عدی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: حدیث میں "خلوہ" سے مراد اکیلے سفر کرنا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2525 in Urdu