المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
65. استئذان الأبوين عند الجهاد
جہاد کے لیے والدین سے اجازت لینا
حدیث نمبر: 2532
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرّاج أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رجلًا هاجَرَ إلى رسول الله ﷺ من اليمن، فقال: يا رسول الله، إني هاجَرْتُ، فقال له رسول الله ﷺ: قد هَجَرْتَ من الشِّرك، ولكنه الجهادُ، هل لك أحدٌ باليمن؟" قال: أبَوان، قال:"أَذِنا لك؟" قال: لا، قال:"فارجِعْ فاستأذِنُهُما، فإن أَذِنا لك فجِاهْد، وإلّا فبِرَّهما" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث عبد الله بن عمرو:"ففيهما فجاهِدْ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2501 - دراج واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث عبد الله بن عمرو:"ففيهما فجاهِدْ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2501 - دراج واه
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص یمن سے ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہجرت کر کے آیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے شرک سے ہجرت تو کر لی ہے لیکن اصل ہجرت تو جہاد ہے۔ کیا یمن میں تیرا کوئی (رشتہ دار) ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں میرے والدین ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے تجھے جہاد کی اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جا اور ان سے اجازت مانگ، اگر وہ اجازت دے دیں تو جہاد کر ورنہ ان کی خدمت میں مشغول ہو جا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس انداز میں بیان نہیں کیا تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے یہ ان دونوں میں ” مجاہد “ تک حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2532]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2532 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف درّاج أبي السَّمْح - وهو ابن سمعان - في روايته عن أبي الهيثم - وهو سليمان بن عمرو العُتَواري .. ابن وهب: هو عبد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ دراج ابوالسمح جب ابوالہیثم سے روایت کریں تو ضعیف ہوتے ہیں۔ ابن وہب سے مراد عبد اللہ بن وہب ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2530)، وابن حبان (422) من طريقين عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 18/ 11721) من طريق عبد الله بن لَهِيعة، عن دَرَّاج، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2530)، ابن حبان (422) اور امام احمد (11721) نے ابن لہیعہ اور ابن وہب کے طریق سے دراج سے روایت کیا ہے۔
وقوله: "قد هجرت من الشرك يُفسِّره قوله ﷺ في حديث عبد الله بن عمرو عند البخاري (10):
📝 نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "میں نے شرک سے ہجرت کی" کی وضاحت صحیح بخاری (10) کی اس حدیث سے ہوتی ہے:
المهاجر من هَجَرَ ما نهى اللهُ عنه".
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: "حقیقی مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے"۔
(1) أخرجه البخاري برقم (3004)، ومسلم (2549).
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (3004) اور امام مسلم (2549) نے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (7437) و (7442).
📖 حوالہ / مصدر: مزید تفصیل آگے نمبر (7437، 7442) پر ملاحظہ فرمائیں۔