🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. الجنة عند رجلي الوالدة .
جنت ماں کے قدموں تلے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2533
أخبرنا إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجّاج بن محمد قال: قال ابن جُرَيج: أخبَرني محمد بن طلحة بن عبد الله بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن معاوية بن جاهِمَة: أَنَّ جَاهِمَةَ أَتى النبيَّ ﷺ فقال: إني أردتُ أن أغزوَ، فجئتُ أستشِيرُك، فقال:"ألك والدهٌ؟" قال: نعم، قال:"اذهَبْ فالزَمْها، فإنَّ الجنة عند رِجْلَيها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2502 - صحيح
سیدنا معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جاہمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: میں نے جہاد کرنے کا ارادہ کیا ہے اور آپ کے پاس اس سلسلے میں مشورہ کرنے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری والدہ (زندہ) ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا، اس کی خدمت کر کیونکہ جنت اس کے قدموں نیچے ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2533]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2533 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن طلحة وأبيه، فهما صدوقان، وكذا محمد بن الفرج صدوق، لكنه متابع. ابن جُرَيج: هو عبد الملك بن عبد العزيز المكي.
⚖️ درجۂ حدیث: محمد بن طلحہ اور ان کے والد کی وجہ سے سند حسن ہے، وہ دونوں صدوق ہیں۔ محمد بن الفرج بھی صدوق ہیں۔ ابن جریج سے مراد عبد الملک بن عبد العزیز المکی ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (2781 م) عن هارون بن عبد الله الحَمَّال، والنسائي (4297) عن عبد الوهاب ابن الحكم الوراق، كلاهما عن حجاج بن محمد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2781) اور نسائی (4297) نے حجاج بن محمد کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 24 / (15538) عن روح بن عُبادة، عن ابن جُرَيج، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے روح بن عبادہ عن ابن جریج کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2781) من طريق محمد بن إسحاق، عن محمد بن طلحة، عن معاوية بن جاهمة، قال: أتيت رسولَ الله … فوهم في موضعين: وهم في إسقاط ذكر طلحة من إسناده، وجعله من مسند معاوية بن جاهمة، وأثبت القصة له، وإنما القصة لأبيه، كما حققه الحافظ في "الإصابة" 1/ 446 - 447 في ترجمة جاهمة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن ماجہ کی ایک اور روایت (از ابن اسحاق) میں دو جگہ وہم ہوا ہے: ایک تو سند سے 'طلحہ' کا نام گر گیا، دوسرا یہ کہ اسے معاویہ بن جاهمہ کا واقعہ بنا دیا گیا، جبکہ 'الاصابہ' میں حافظ ابن حجر کی تحقیق کے مطابق یہ واقعہ ان کے والد (جاهمہ) کا ہے۔