🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. من غزا فله ما نوى .
جو جہاد کے لیے نکلا اس کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2555
أخبرَنَاه أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو توْبة الربيع بن نافع، حدثنا بَشير بن طلحة، عن خالد بن دُرَيك، عن يعلى ابن مُنْية، قال: كان النبيُّ ﷺ يبعثُني في سَراياهُ، فبعثني ذاتَ يوم، وكان رجلٌ يَركَبُ بَغْلي، فقلتُ له: ارحَلْ فقال: ما أنا بخَارجٍ معك، قلت: لِمَ؟ قال: حتى تجعلَ لي ثلاثةَ دنانيرَ، قلتُ: الآن حينَ ودَّعتُ النبيَّ ﷺ، ما أنا براجعٍ إليه، ارحَلْ ولك ثلاثةُ دنانيرَ، فلما رجعتُ من غَزاتي ذكرتُ ذلك للنبيِّ ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ:"أعطِها إياهُ، فإنها حَظُّهُ مِن غَزَاتِه" (2) .
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جنگی مہموں میں بھیجا کرتے تھے، ایک دن آپ نے مجھے (ایک جنگی مہم پر) روانہ کیا۔ ایک شخص گھڑسواری کیا کرتا تھا، میں نے اس کو کہا کہ تیاری کرو۔ اس نے کہا: میں تیرے ساتھ نہیں جاؤں گا۔ میں نے وجہ پوچھی، تو کہنے لگا: اگر تین دینار مجھے دو گے تو میں چلوں گا۔ میں نے کہا: اب جبکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے الوداع ہو کر آ گیا ہوں، اب ان کی طرف لوٹ کر نہیں جاؤں گا تم چلو (ٹھیک ہے) تمہیں تین دینار مل جائیں گے۔ پھر جب میں اس جنت سے واپس لوٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو تین درہم دے دو کیونکہ تمہاری جنگ سے یہ اس کا حصہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2555]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2555 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن لا يثبت أنَّ خالد بن دُريك لقي يعلى بن مُنية، لكنه لم ينفرد به فقد تابعه عبد الله بن فيروز الديلمي، كما سيأتي برقم (2562).
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور راوی ثقات ہیں، اگرچہ خالد بن دریک کا یعلیٰ بن منیہ سے سماع ثابت نہیں، مگر عبد اللہ بن فیروز الدیلمی نے ان کی متابعت کی ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17957) عن الهيثم بن خارجة، عن بشير بن طلحة، به.
📖 حوالہ: اسے امام احمد نے بشیر بن طلحہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقوله: ارْحَل، أي: اركب، يقال: رَحَلْتُ البعير أَرحَلُه رَحْلًا: إِذا عَلَوتَه.
📝 توضیح: "ارحل" کا مطلب ہے سوار ہو جاؤ۔
(3) في المطبوع: يونس بن يوسف، وقد قيل ذلك في اسمه أيضًا ووقع هكذا في الرواية السالفة برقم (369). وانظر "توضيح أوهام الجمع والتفريق" للخطيب 1/ 300 - 301.
🔍 تصحیح: مطبوعہ میں یونس بن یوسف ہے، یہ نام پہلے بھی گزر چکا ہے۔
(1) وقع هذا الحرف في (ز) في جميع المواضع في هذا الحديث بصيغة المضارع: فيُسحب.
🔍 نکتہ: نسخہ (ز) میں یہ لفظ فعل مضارع کے ساتھ "فیسحب" (پس اسے گھسیٹا جائے گا) مروی ہے۔
وقد جاء كذلك في بعض مصادر التخريج.
📖 حوالہ: تفسیر کے بعض مصادر میں بھی اسی طرح آیا ہے۔