🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
109. من قتل معاهدا له ذمة الله وذمة رسوله فقد خفر ذمة الله
جس نے کسی ایسے معاہد کو قتل کیا جس کے ذمے اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ تھی، اس نے اللہ کی ذمہ داری کو توڑ دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2613
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدّثنا نصر بن علي الجَهْضَمِي، حدثنا مَعْدِي بن سليمان، حدثنا ابن عَجْلان، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"ألا مَن قتل معاهَدًا له ذِمّةُ الله وذِمّةُ رسولِه، فقد خَفَرَ ذِمّةَ الله، ولا يَرَحْ (1) ريحَ الجنةِ، وإنَّ ريحها لتُوجدُ من مسيرةِ سبعين خَرِيفًا" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2581 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی معاہدہ والے آدمی کو قتل کیا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری میں ہے، اس نے اللہ کے عہد کو توڑا۔ اور وہ جنت کی خوشبو تک نہ پا سکے گا حالانکہ جنت کی خوشبو ستّر سال کی مسافت سے آ جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2613]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2613 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذلك جاءت الرواية بسكون آخر الفعل، مع أنَّ حرف "لا" هنا حرف نفي لا حرف نهي لزامًا، وذلك مستعمل في فصيح الكلام تخفيفًا، ومنه قوله ﷺ: "لا تدخلوا الجنة حتى تؤمنوا"، ومنه قراءة أبي عمرو بن العلاء لقوله تعالى: (وما يُشعِرْكُم) [الأنعام: 109] بسكون الراء، مع أنه لا جازم قبل الفعل، وذلك على إسكان المرفوع تخفيفًا. انظر "المحتسب" لابن جني 1/ 227، و"الدر المصون" للسمين الحلبي 5/ 17.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: روایت میں فعل کے آخر میں "سکن" (جزم) آیا ہے، اگرچہ یہاں "لا" نافیہ ہے (ناہیہ نہیں)، لیکن فصیح کلام میں تخفیف کے لیے ایسا استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال "لا تدخلوا الجنة" اور ابوعمرو بن علاء کی قرات "وما یشعرْکم" (ر کے سکون کے ساتھ) ہے جہاں مرفوع کو تخفیفاً ساکن کر دیا گیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: ابن جنی، "المحتسب" (1/ 227) اور سمین حلبی، "الدر المصون" (5/ 17)۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف معدي بن سليمان، لكن روي الحديث من وجه آخر صحيح عن أبي هريرة. ابن عجلان: هو محمد.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند معدی بن سلیمان کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ تاہم، یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے دوسرے صحیح طرق سے مروی ہے۔ 🔍 ناموں کی تحقیق: ابن عجلان سے مراد "محمد بن عجلان" ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (2687)، والترمذي (1403) عن محمد بن بشار، عن معدي بن سليمان، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح، وقد روي من غير وجه عن أبي هريرة عن النبي ﷺ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2687) اور ترمذی (1403) نے محمد بن بشار بحوالہ معدی بن سلیمان اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے اور فرمایا کہ یہ ابو ہریرہ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (8011)، وأبو بكر الإسماعيلي في "معجم شيوخه" 3/ 725، وحمزة بن يوسف السهمي في "تاريخ جرجان" ص 323 من طريق محمد بن مهران الجمّال، عن عيسى بن يونس السَّبيعي، عن عوف الأعرابي، عن محمد بن سيرين، عن أبي هريرة. لكن لفظه عندهم: "مسيرة مئة عام".
🧩 متابعات و شواہد: اسے طبرانی (8011)، اسماعیلی (3/ 725) اور حمزہ سہمی نے "تاریخ جرجان" (ص 323) میں محمد بن مہران الجمال کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ان کے ہاں حدیث کے الفاظ یہ ہیں: "(جنت کی خوشبو) سو سال کی مسافت سے (محسوس ہوتی ہے)۔"