المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
109. من قتل معاهدا له ذمة الله وذمة رسوله فقد خفر ذمة الله
جس نے کسی ایسے معاہد کو قتل کیا جس کے ذمے اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ تھی، اس نے اللہ کی ذمہ داری کو توڑ دیا
حدیث نمبر: 2614
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد وبِشر بن المفضَّل، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حَبّان، عن أبي عَمْرة، عن زيد بن خالد الجُهَني: أنَّ رجلًا من أصحاب النبي ﷺ تُوفي يومَ خيبر (3) فذكروا لرسول الله ﷺ، فقال:"صلُّوا على صاحبِكم"، فتغيَّر وجوهُ الناسِ لتلك، فقال:"إنَّ صاحبَكم غَلَّ في سبيل الله"، ففتَّشْنا متاعَه فوجدنا خَرَزًا من خَرَز اليهود لا يُساوي درهمين (4) . حديث صحيح على شرط الشيخين، وأظنهما لم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2582 - على شرط البخاري ومسلم وأظنهما لم يخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2582 - على شرط البخاري ومسلم وأظنهما لم يخرجاه
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، غزوہ حنین کے موقع پر ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وفات کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ساتھی کی تم (خود ہی) نماز جنازہ پڑھ لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے چہرے اُتر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہے، ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہودیوں کے دو موتی ملے جس کی قیمت بمشکل دو درہم ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ اور میرا یہ خیال ہے کہ شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2614]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2614 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في (ز) و (ب) و (ع) إلى: حنين، والصواب من (ص) ومصادر التخريج.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز)، (ب) اور (ع) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "حنین" ہو گیا ہے، جبکہ نسخہ (ص) اور دیگر کتبِ تخریج کے مطابق درست لفظ "خیبر" (یا متعلقہ مقام) ہے۔
(4) إسناده حسن كما بيناه عند الرواية المتقدمة برقم (1362). يحيى بن سعيد شيخ مُسدَّد: هو القطان، وشيخ القطان: هو ابن قيس الأنصاري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے جیسا کہ روایت نمبر (1362) کے تحت واضح کیا گیا۔ 🔍 ناموں کی تحقیق: مسدد کے شیخ یحییٰ بن سعید سے مراد "القطان" ہیں، اور قطان کے شیخ "یحییٰ بن سعید انصاری" ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2710) عن مُسدَّد، وابن حبان (4853) عن الفضل بن الحُبَاب، عن مُسدَّد، بهذا الإسناد. لكن لم يذكر الفضل في روايته بشر بن المفضل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داؤد (2710) اور ابن حبان (4853) نے مسدد کے واسطے سے روایت کیا ہے، مگر فضل نے اپنی روایت میں بشر بن مفضل کا ذکر نہیں کیا۔
وأخرجه أحمد (36/ 21675) عن يحيى بن سعيد القطان، والنسائي (2097) عن عُبيد الله ¤ ¤ ابن سعيد السَّرْخَسي، عن يحيى بن سعيد القطان، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (36/ 21675) اور نسائی (2097) نے اسے یحییٰ بن سعید القطان کے طریق سے روایت کیا ہے۔