المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. النهي عن بيع المغانم حتى تقسم وعن الحبالى حتى يضعن ما فى بطونهن
غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2654
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتّاب العَبْدي، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا علي بن عاصم، حدثنا داود بن أبي هند. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا محمد بن المسيّب، حدثنا إسحاق بن شاهين، حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: كان ناسٌ من الأُسارى يوم بدر ليس لهم فِداءٌ، فجعلَ رسول الله ﷺ فِداءَهم أن يُعلِّموا أولادَ الأنصار الكتابةَ، قال: فجاء غلامٌ من أولاد الأنصار إلى أبيه، فقال: ما شأنُك؟ قال: ضربني مُعلِّمي، قال: الخبيثُ يَطلبُ بِذَحْلِ بدرٍ، والله لا تأتيه أبدًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2621 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2621 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: غزوۂ بدر کے موقع پر کچھ قیدی ایسے تھے جن کے پاس فدیہ دینے کے لیے کچھ نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے یہ فدیہ مقرر کیا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا (پڑھنا) سکھا دیں، (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: ایک انصاری بچہ اپنے والد سے کہنے لگا: میرے معلم نے مجھے مارا ہے، (اس کے والد نے) کہا: وہ خبیث آدمی بدر کی بھڑاس نکال رہا ہے۔ پھر اس نے اپنے بیٹے کو اس کے پاس پڑھنے سے روک دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2654]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2654 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح من جهة خالد بن عبد الله: وهو الواسطي الطحّان.
⚖️ درجۂ حدیث: خالد بن عبد اللہ (الواسطی الطحان) کی جہت سے یہ سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد (4/ 2216) عن علي بن عاصم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (4/ 2216) نے علی بن عاصم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج منه ذكر تعليم الكتابة دون قصة الغلام الأنصاري: أبو عبيد في "الأموال" (309)، وابن سعد في "الطبقات الكبرى" 2/ 23 من طريقين عن أيوب السختياني، عن عكرمة، مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: انصاری لڑکے کے قصے کے بغیر صرف "کتابت (لکھنا پڑھنا) سکھانے" کا ذکر ابو عبید نے "الاموال" (309) میں اور ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" (2/ 23) میں ایوب سختیانی عن عکرمہ کے دو طرق سے "مرسل" روایت کیا ہے۔
والذَّحْل: الثأر.
📝 لغوی تشریح: "الذحل" کا معنی ہے: خون کا بدلہ یا انتقام (ثأر)۔