🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. النهي عن بيع المغانم حتى تقسم وعن الحبالى حتى يضعن ما فى بطونهن
غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2655
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأسدي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع، حدثنا صفوان بن عمرو، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: كان رسول الله ﷺ إذا جاءه فَيءٌ قَسَمه من يومِه، فأعطى الآهِلَ حَظَّين والعَزَبَ حظًّا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد أخرج بهذا الإسناد بعَينِه أربعةَ أحاديث، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2622 - على شرط مسلم
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اشجعی فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کی یہ عادت تھی کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس دن مالِ غنیمت آتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن تقسیم فرما دیتے، شادی شدہ لوگوں کو کنواروں کی بہ نسبت دگنا حصہ دیتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے بعینہ اسی سند کے ہمراہ چار حدیثیں نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2655]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2655 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23986) و (24004)، وأبو داود (2953) من طريقين عن صفوان بن عمرو، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/ 23986، 24004) اور ابو داود (2953) نے صفوان بن عمرو کے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والآهل: الذي له زوجة وعيال، والعزب: الذي لا زوجة له.
📝 لغوی تشریح: "الآھل" اس شخص کو کہتے ہیں جو بیوی بچوں والا (شادی شدہ) ہو، اور "العزب" اسے کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو (کنوارا)۔