🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. يجير على أمتي أدناهم .
میری امت کا ادنیٰ فرد بھی امان دے سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2658
أخبرنا أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن عمرو بن مُرّة، عن أبي البَخْتَري، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"ذِمّةُ المسلمين واحدةٌ، فإن جارَتْ عليهم جائرة، فلا تخفِروها، فإنَّ لكل غادر لواءً يُعرَفُ به يومَ القيامة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على ذكر الغادر فقط (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2626 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایآ: تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے اگر کوئی لونڈی ان کی پناہ میں ہو تو تم اس کے ساتھ کیا ہوا عہد مت توڑو کیونکہ ہر خیانت کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک خاص نشانی ہو گی، جس کے سبب قیامت کے دن اس کو پہچانا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ان لفظوں کے ہمراہ نقل نہیں کیا، تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے صرف غادر کا ذکر کیا ہے۔ نوٹ: مذکورہ حدیث میں فَاِنْ جَازتْ عَلَیْھِمْ جَائزۃ کے الفاظ ہیں۔ جب کہ دیگر تمام کتب حدیث میں فان اَجَارَتْ عَلَیْھِمْ جَارِیَۃٌ کے الفاظ ہیں۔ اس لیے ترجمہ میں اَجَارَتْ والے الفاظ کی رعایت کی گئی ہے۔ (شفیق) [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2658]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2658 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، وقد سقط من إسناد هذه الرواية رجلٌ بين أبي إسحاق الفزاري - واسمه إبراهيم بن محمد بن الحارث - وبين عمرو بن مُرة - وهو بن عبد الله الجَمَلي - وهذا الرجل هو أبو سَعْد البقّال - واسمه سعيد بن المَرْزُبان - وهو رجل ضعيف الحديث، وقد أثبته في إسناد هذا الحديث كل من رواه عن أبي إسحاق الفزاري من ثقات أصحابه غير محبوب، وكذلك أثبته عُبيد بن عبد الواحد بن شريك البزار في روايته عن محبوب بن موسى، فالظاهر أنَّ الوهم هنا ممَّن دون محبوب، والله تعالى أعلم، وجزم أبو حاتم الرازي بأنَّ رواية أبي البَختَري - وهو سعيد بن فيروز - عن عائشة مرسلة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اس کی سند سے ایک راوی گرا ہوا ہے جو ابو اسحاق فزاری اور عمرو بن مرہ کے درمیان تھا، اور وہ "ابو سعد البقال" (سعید بن مرزبان) ہے جو کہ ضعیف ہے۔ ابو حاتم رازی نے جزم کے ساتھ فرمایا ہے کہ ابو البختری (سعید بن فیروز) کا حضرت عائشہ سے سماع نہیں ہے، لہذا یہ روایت مرسل ہے۔
وأخرجه ابن عبد البر في "التمهيد" 21/ 188 من طريق عُبيد بن عبد الواحد البزار، عن محبوب بن موسى، عن أبي إسحاق الفزاري، عن أبي سعد، قال: أخبرنا عمرو بن مرة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عبد البر نے "التمہید" میں عبید بن عبد الواحد کے طریق سے روایت کیا ہے جس میں گرا ہوا راوی "ابو سعد" مذکور ہے۔
وأخرجه الحارث بن أبي أسامة في "مسنده" كما في "بغية الباحث" (671)، وأبو عوانة (6526) من طريق معاوية بن عمرو، وأبو عوانة (6526)، والخرائطي في "اعتلال القلوب" (430)، وفي "مساوئ الأخلاق" (399) من طريق عاصم بن يوسف الكوفي، وأبو يعلى (4392) عن محمد بن عبد الرحمن بن سهم، ثلاثتهم عن أبي إسحاق الفزاري، عن أبي سعد البقال الأعور، عن عمرو بن مرة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے حارث بن ابی اسامہ، ابو عوانہ، خرائٹی (اعتلال القلوب) اور ابو یعلیٰ نے مختلف طرق سے ابو اسحاق فزاری عن ابو سعد البقال کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (5628) من طريق علي بن هاشم بن البَريد، عن أبي سعْد البقّال، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الاوسط" (5628) میں علی بن ہاشم کے طریق سے ابو سعد البقال کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وقد صحَّ عن عائشة كما سيأتي عند المصنف برقم (5110): أنَّ النبي ﷺ أجاز جِوارَ ابنته زينب لزوجها أبي العاص، وقال: "إنه يجير على المسلمين أدناهم، وإسناده حسن.
✅ ثابت شدہ حقیقت: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ صحیح ثابت ہے (جیسا کہ رقم 5110 پر آئے گا) کہ نبی ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی طرف سے ان کے (کافر) شوہر ابو العاص کو دی گئی پناہ (امان) کو جائز قرار دیا اور فرمایا: "مسلمانوں کا ادنیٰ شخص بھی امان دے سکتا ہے"۔ اس کی سند حسن ہے۔
وصحَّ عن عائشة أيضًا عند أبي داود (2764)، والنسائي (8630) أنها قالت: إن كانتِ المرأةُ لتُجِير على المؤمنين فيجوزُ. هذا لفظ أبي داود، وإسناده صحيح.
✅ ثابت شدہ حقیقت: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح سند کے ساتھ (ابو داود 2764، نسائی 8630) مروی ہے کہ: "اگر کوئی عورت بھی مومنوں کی طرف سے (دشمن کو) امان دے دے تو وہ جائز ہوگی"۔ اس کی سند صحیح ہے۔
(2) إنما اتفقا عليه من غير حديث عائشة، كابن مسعود وأنس وابن عمر، وانفرد مسلم أيضًا ¤ ¤ بحديث أبي سعيد الخُدْري. انظر "صحيح البخاري" (3186) و (3188) و"صحيح مسلم" (1735) و (1736) و (1737) و (1738).
📚 وضاحت: امام بخاری و مسلم نے اس موضوع کی احادیث پر اتفاق کیا ہے مگر وہ حضرت عائشہ کی حدیث نہیں بلکہ ابن مسعود، انس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کی احادیث ہیں۔