🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. النهي عن قتال من يقول لا إله إلا الله
لا إله إلا الله کہنے والے سے قتال کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2702
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا سليمان بن بلال، عن علقمة بن أبي علقمة، عن أمّه: أنَّ غلامًا كان لبابَى (1) ، وكان بابَى يضربه في أشياء ويُعاقِبه، وكان الغلامُ يُعادي سيِّدَه فباعه (2) ، فلقيه الغلامُ يومًا ومع الغلام سيفٌ، وذلك في إمْرة سعيد بن العاص، فشَهَرَ العبدُ على بابَى السيفَ وتَفلَّت به عليه، فأمسكَه الناسُ عنه، فدخل بابَى على عائشة، فأخبرها بما فعل العبدُ، فقالت عائشة: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن أشار بحديدةٍ إلى أحدٍ من المسلمين يريد قتلَه، فقد وَجَبَ دمُه". قالت: فخرج بابَى من عندها، فذهب إلى سيد العبدِ الذي ابتاعه منه فاستقالَه فأقالَه، وردَّ إليه، فأخذَه بابَى فقتلَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2669 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علقمہ بن ابوعلقمہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں بابی کا ایک غلام تھا جس کو بابی اکثر طور پر مارا کرتا تھا اور سزائیں دیا کرتا تھا اور وہ غلام اپنے آقا کے متعلق شدید غصہ رکھتا تھا۔ آقا نے اس کو بیچ دیا۔ ایک دن اس کی اسی غلام سے ملاقات ہو گئی اور غلام کے پاس اس وقت تلوار تھی۔ یہ واقعہ سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی ولایت میں پیش آیا۔ اس غلام نے بابی پر تلوار سونت لی اور اس پر حملہ کر دیا۔ لوگوں نے بچ بچاؤ کرا دیا۔ پھر بابی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان کو غلام کا واقعہ بتایا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو قتل کرنے کے لیے ہتھیار اٹھائے وہ مباح الدم ہو جاتا ہے۔ (علقمہ کی والدہ) کہتی ہیں: بابی ام المومنین رضی اللہ عنہا کے ہاں سے نکلا اور اس شخص کے پاس گیا جس نے اس سے یہ غلام خریدا تھا۔ اور اس سے کہا: اپنے دام واپس لے لو یہ غلام مجھے واپس کر دو۔ وہ مان گیا۔ اور غلام بابی کے حوالے کر دیا۔ بابی اس کو لے آیا اور لا کر اسے مار ڈالا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2702]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2702 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات، وأم علقمة روى عنها اثنان، وذكرها العجلي وابن حبان في الثقات، وقال ابن سعد: روى عنها ابنُها أحاديث صالحة. قلنا: وقد تفردت بهذا الحديث، وقد احتجَّ الإمام أحمد بخبرها في الحامل ترى الدم أنها لا تصلي، ووافقه على ذلك إسحاق بن راهويه، حكاه عنهما ابن القيم في "زاد المعاد" 5/ 649.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ام علقمہ سے دو راویوں نے روایت کی ہے، امام عجلی اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے، اور ابن سعد کہتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے ان سے "احادیثِ صالحہ" (اچھی احادیث) روایت کی ہیں۔ اگرچہ وہ اس مخصوص حدیث میں تنہا (متفرد) ہیں، لیکن امام احمد بن حنبل نے ان کی اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ اگر حاملہ عورت (دورانِ حمل) خون دیکھے تو وہ نماز نہیں پڑھے گی۔ 🤝 تائید: امام اسحاق بن راہویہ نے بھی اس مسئلے میں امام احمد کی موافقت کی ہے، جیسا کہ ابن قیم نے "زاد المعاد" (5/649) میں ان دونوں سے یہ موقف نقل کیا ہے۔
وأخرجه ابن حزم في "المحلى" 11/ 302 من طريق يحيى بن أيوب، عن سعيد بن أبي مريم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حزم نے "المحلیٰ" (11/302) میں یحییٰ بن ایوب عن سعید بن ابی مریم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 43/ (26294) عن عبيد بن أبي قرة، عن سليمان بن بلال، به. دون ذكر القصة، مع أنه أشار إليها بقوله: في قصة ذكرها.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند" (43/26294) میں عبید بن ابی قرہ عن سلیمان بن بلال کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ: انہوں نے یہاں مکمل قصہ ذکر نہیں کیا، البتہ "فی قصۃ ذکرہا" (ایک قصے میں جسے انہوں نے ذکر کیا) کہہ کر اس کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔
قوله: "فقد وجب دمه" أي: حلَّ للمقصود أن يدفعه عن نفسه ولو قتله، فوجب ها هنا بمعنى: حلَّ.
📝 لغوی و فقہی توضیح: آپ ﷺ کے قول "فقد وجب دمہ" (پس اس کا خون واجب ہو گیا) کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص پر حملہ کیا گیا (المقصود) اس کے لیے یہ حلال ہو گیا کہ وہ اپنا دفاع کرے خواہ اسے حملہ آور کو قتل ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ یہاں لفظ "وجب" کا معنی "حلّ" (حلال یا جائز ہونا) کے ہیں۔