🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. من تزوج ولم يفرض صداقا
جس نے نکاح کیا اور مہر مقرر نہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2772
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا إسماعيل بن الخَليل، حدثنا علي بن مُسهِر، حدثنا داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن علقمة بن قيس: أنَّ قومًا أتوا عبد الله بن مسعود، فقالوا له: إنَّ رجلًا منا تزوّج امرأةً ولم يَفْرِضْ لها صداقًا، ولم يَجمَعْها إليه حتى مات، فقال لهم عبد الله: ما سُئلتُ عن شيءٍ منذ فارقتُ رسولَ الله ﷺ أشدَّ عليَّ من هذه، فأْتُوا غيري، قالوا: فاختلفوا إليه فيها شهرًا، ثم قالوا له في آخر ذاك: مَن نسألُ إذا لم نسألك وأنت آخِيّةُ أصحاب محمد ﷺ في هذا البلد، ولا نَجِدُ غيرك، فقال: سأقول فيها بجُهد رأيي، فإن كان صوابًا فمِن الله وحدَه لا شريك له، وإن كان خطأً فمنّي، واللهُ ورسولُه منه بَريء، أَرى أن أجعلَ لها صَداقًا كصَداق نسائها، لا وَكْسَ ولا شَطَطَ، ولها الميراث، وعليها العِدّة أربعةَ أشهر وعشرًا، قال: وذلك يَسمعُ ناسٌ من أشجَعَ، فقاموا، فقالوا: نشهدُ أنك قضيتَ بمثل الذي قضى به رسولُ الله ﷺ في امرأةٍ منا يقال لها: بَرْوَعُ بنتُ واشِقٍ، قال: فما رُئِيَ عبدُ الله فَرِحَ بشيءٍ ما فرحَ يومئذٍ إلّا بإسلامه، ثم قال: اللهم إن كان صوابًا فمنك وحدَك لا شريك لك، وإن كان خطأً فمنّي ومن الشيطان، واللهُ ورسولُه منه بَريءٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2737 - على شرط مسلم
علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ کچھ لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: ہمارے ایک ساتھی نے ایک عورت سے نکاح کیا لیکن اس کا مہر مقرر نہیں کیا تھا اور وہ رخصتی سے پہلے ہی فوت ہو گیا (اس بارے میں کیا حکم ہے؟)، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں، مجھ سے اس سے زیادہ مشکل سوال نہیں پوچھا گیا، تم کسی اور کے پاس چلے جاؤ، راوی کہتے ہیں: وہ لوگ ایک ماہ تک ان کے پاس آتے رہے، پھر آخر کار انہوں نے کہا: اگر ہم آپ سے نہ پوچھیں گے تو کس سے پوچھیں گے جبکہ آپ اس شہر میں اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے معتمد اور ستون ہیں، تو انہوں نے فرمایا: میں اس معاملے میں اپنی پوری فکری کوشش (اجتہاد) سے رائے پیش کرتا ہوں، اگر یہ درست ہوئی تو اللہ وحدہ لا شریک کی طرف سے ہوگی اور اگر غلط ہوئی تو میری طرف سے ہوگی جبکہ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہوں گے، میری رائے یہ ہے کہ اس عورت کے لیے اس کے خاندان کی عورتوں جیسا مہر (مہرِ مثل) ہوگا جس میں نہ کمی ہوگی نہ زیادتی، اسے وراثت میں حصہ بھی ملے گا اور اس پر چار ماہ دس دن کی عدت بھی لازم ہوگی، راوی کہتے ہیں: قبیلہ اشجع کے کچھ لوگ وہاں موجود تھے، وہ کھڑے ہوئے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے بعینہ وہی فیصلہ کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری ایک خاتون بروع بنت واشق کے بارے میں کیا تھا، راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو قبولِ اسلام کے بعد کسی اور بات پر اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا گیا جتنا وہ اس دن خوش ہوئے، پھر انہوں نے (تواضعاً) کہا: اے اللہ! اگر یہ فیصلہ درست ہے تو محض تیری ہی طرف سے ہے، اور اگر غلط ہے تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2772]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،الشعبي: هو عامر بن شراحيل» [ترقيم الرساله 2772] [ترقيم الشركة 2753] [ترقيم العلميه 2737]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2772 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. الشعبي: هو عامر بن شراحيل
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی اسناد "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام "الشعبی" سے مراد عامر بن شراحيل (الکوفی) ہیں۔
وأخرجه النسائي (5494)، وابن حبان (4101) من طريق علي بن حجر، عن علي بن مُسهِر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (5494) اور ابن حبان (4101) نے علی بن حجر عن علی بن مسہر کے واسطے سے مذکورہ بالا اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا أحمد 30/ (18462) من طريق حماد بن سلمة، و (18463) من طريق يحيى ابن زكريا بن أبي زائدة، كلاهما عن داود بن أبي هند، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "المسند" (30/ 18462) میں حماد بن سلمہ کے طریق سے، اور (18463) میں یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کے طریق سے "مختصراً" روایت کیا ہے؛ یہ دونوں راوی داؤد بن ابی ہند سے روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه مختصرًا أيضًا أحمد 25/ (15943) و 30/ (18461) و (18465) و (18466)، ¤ ¤ وابن ماجه (1891 م)، والترمذي (1145)، والنسائي (5489) و (5490) و (5493) و (5688)، وابن حبان (4100) من طريق إبراهيم النخعي، عن علقمة، به. وقُرن به في بعض طرقه الأسود بن يزيد النخعي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (25/ 15943 اور 30/ 18461، 18465، 18466)، ابن ماجہ (1891 م)، ترمذی (1145)، نسائی (5489، 5490، 5493، 5688) اور ابن حبان (4100) نے ابراہیم النخعی عن علقمہ بن قیس کی سند سے "مختصراً" روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بعض طرق میں علقمہ کے ساتھ اسود بن یزید النخعی کا نام بھی بطورِ مقرون (ملا کر) ذکر کیا گیا ہے۔
وسيأتي بعده من طريق مسروق بن الأجدع عن عبد الله بن مسعود.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت اس کے بعد مسروق بن الاجدع عن حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طریق سے مروی آئے گی۔
آخيَّة: أي: بقيّة.
📝 نوٹ / توضیح: "آخيَّة" سے مراد "بقیہ" (بچا ہوا حصہ یا نشانی) ہے۔
والوَكْس: النقص، والشَّطَط: الجَوْر.
📝 نوٹ / توضیح: "الوَكْس" کے معنی "کمی" اور "الشَّطَط" کے معنی "زیادتی یا ظلم" کے ہیں۔

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2772M
سمعتُ أبا عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وقيل له: سمعتَ الحسن بن سفيان يقول: سمعتُ حرملة بن يحيى يقول: سمعتُ الشافعي يقول: إن صحَّ حديث بَرْوَعَ بنتِ واشِقٍ قلتُ به. فقال أبو عبد الله: لو حضرتُ الشافعيَّ رضي الله عنه لقمتُ على رؤوس أصحابه، وقلتُ: فقد صحَّ الحديثُ، فقُلْ به. قال الحاكم: فالشافعي إنما قال: لو صحَّ الحديثُ، لأنَّ هذه الرواية وإن كانت صحيحةً فإنَّ الفتوى فيه لعبد الله بن مسعود، وسنَدُ الحديث لِنَفَر من أشجَعَ، وشيخُنا أبو عبد الله رحمه الله إنما حَكَمَ بصحّة الحديث لأنَّ الثقة قد سمَّى فيه رجلًا من الصحابة، وهو مَعقِلُ بن سِنان الأشجعي. وبصحة ما ذكرتُه:
ابو عبداللہ محمد بن یعقوب الحافظ سے مروی ہے کہ انہوں نے امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول سنا: اگر بروع بنت واشق والی حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو میں اسے ہی اپنا مسلک بنا لوں گا۔ تو ابو عبداللہ نے کہا: اگر میں امام شافعی رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوتا تو ان کے شاگردوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہتا کہ یہ حدیث تو صحیح ثابت ہو چکی ہے، لہٰذا اب اس کے مطابق قول اختیار کیجیے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: امام شافعی نے اس کی صحت پر اس لیے توقف کیا تھا کیونکہ اگرچہ یہ روایت درست تھی مگر فتویٰ عبداللہ بن مسعود کا تھا اور (اس وقت) سند میں قبیلہ اشجع کے چند غیر معروف لوگ تھے، جبکہ ہمارے شیخ ابو عبداللہ نے اس لیے اس کی صحت کا حکم لگایا کیونکہ ایک ثقہ راوی نے اس میں ایک معتبر صحابی کا نام صراحت سے ذکر کر دیا ہے اور وہ معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ ہیں۔
میں نے جو ذکر کیا ہے اس کی تائید اس سے ہوتی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2772M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2772M] [ترقيم الشركة 2753/1]
 
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2772 in Urdu