🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. العمل الذى يدخل الجنة
وہ عمل جو جنت میں داخل کرنے والا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2897
حدثني محمد بن صالح بن هانئ ومحمد بن عبد الله بن دِينار العَدْل، قالا: حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكين، حدثنا عيسى بن عبد الرحمن السُّلَمي، حدثنا طلحة اليامِيّ، عن عبد الرحمن بن عَوسَجة، عن البراء بن عازب، قال: جاء أعرابيٌّ إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله، علِّمني شيئًا يُدخِلُني الجنة، فقال:"لَئِن أقصرْتَ الخُطبةَ لقد أعرضْتَ المسألةَ: أعتقِ النَّسَمةَ وفُكَّ الرقَبَة" قال: أوَليسا واحدًا؟ قال:"فإنَّ عِتْقَ النسَمةِ أن تَفَرَّدَ بعِتْقها، وفَكَّ الرقَبةِ أن تُعينَ في ثمنِها، والمِنْحةُ المَوكُوفة، والفَيءُ على ذي الرَّحِمِ الظالِم، فإن لم تُطِقْ ذلك، فأطعِمِ الجائعَ، واسقِ الظَّمآن، وأْمُر بالمعروف وانْهَ عن المُنكر، فإن لم تُطِقْ ذلك، فكُفَّ لِسانَك إلّا مِن خَيرٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2861 - صحيح
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیں جو مجھے جنت میں لے جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنی گفتگو مختصر کرو تو میں آپ کا سوال پورا کرتا ہوں۔ اَعْتِقِ النَّسَم (غلام آزاد کرو) اور وَفُکَّ الرَّقَبَۃ (غلام آزاد کر) اس نے کہا: عتق النسمہ (کا مطلب) غلام آزاد کرنا ہے جبکہ فک الرقبہ (کا مطلب) یہ کہ اس کی قیمت کی ادائیگی میں معاونت کریں اور ظالم رشتہ دار کے ساتھ حسن سلوک کریں، اگر تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے تو بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور پیاسے کو پانی پلاؤ، بھلائی کا حکم دو، برائی سے منع کرو اگر تم اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتے ہو تو بھلائی کے علاوہ ہر چیز سے زبان کو روک لو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2897]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2897 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. طلحة الياميّ: هو ابن مُصرِّف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "صحیح" ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: (سند میں) طلحہ الیامی سے مراد "ابن مصرف" ہیں۔
وأخرجه أحمد 30/ (18647)، وابن حبان (374) من طرق عن عيسى بن عبد الرحمن البجلي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (30/ 18647) اور ابن حبان (374) نے عیسیٰ بن عبد الرحمن البجلی سے مختلف طرق کے ذریعے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
قوله: "أقصرْتَ الخُطبة"، أي: جئت بالخطبة قصيرة.
📝 نوٹ / توضیح: قول "أقصرْتَ الخُطبة" کا مطلب ہے: تم نے خطبہ مختصر دیا (چھوٹا خطبہ لے کر آئے)۔
وقوله: "أعرضْتَ المسألة"، أي: جئت بالمسألة واسعة كثيرة.
📝 نوٹ / توضیح: قول "أعرضْتَ المسألة" کا مطلب ہے: تم نے سوال وسیع اور بہت بڑا کیا (بڑی مانگ لے کر آئے)۔
والنَّسَمة: النفس والرُّوح، وكل دابّة فيها روح فهي نَسَمة، وإنما يريد الناس.
📝 نوٹ / توضیح: "النَّسَمة": جان اور روح کو کہتے ہیں۔ ہر جاندار جس میں روح ہو وہ "نسمہ" ہے، لیکن یہاں مراد "انسان" (غلام آزاد کرنا) ہے۔
والمِنْحة: الناقة أو الشاة تعطى ليُنتفَعَ بلبنها ثم تعاد إلى مالكها.
📝 نوٹ / توضیح: "المِنْحة": وہ اونٹنی یا بکری جو کسی کو دی جائے تاکہ وہ اس کے دودھ سے فائدہ اٹھائے اور پھر اسے مالک کو واپس کر دے۔
وقوله: الموكوفة، كذا جاء في أصولنا بصيغة مفعولة، وفي سائر مصادر تخريج: الوَكُوف، بصيغة فَعُول، وهو المعروف في كتب اللغة، ومعناه: الناقة أو الشاة الغزيرة اللبن. ولعلَّ الصواب في رواية الحاكم: الوكوفة، بحذف الميم، بإلحاق تاء التأنيث، لأنَّ المنحة مؤنثة، وذلك جائز في نظائره على قِلّة، كعَجُوزة للمرأة المُسِنة، والله أعلم.
📝 نوٹ / توضیح: (لفظ) "الموكوفة": ہمارے نسخوں میں یہ مفعول کے صیغے پر آیا ہے، جبکہ دیگر تخریج کے مصادر میں "الوَكُوف" (فعول کے وزن پر) ہے، اور لغت کی کتابوں میں یہی معروف ہے۔ اس کا مطلب ہے: "وہ اونٹنی یا بکری جو بہت زیادہ دودھ دینے والی ہو۔" شاید حاکم کی روایت میں درست لفظ "الوکوفة" (میم کے بغیر، اور تائے تانیث کے ساتھ) ہو، کیونکہ "منحہ" مؤنث ہے۔ اور یہ اس جیسی مثالوں میں شاذ و نادر جائز ہوتا ہے، جیسے بوڑھی عورت کے لیے "عجوزة" کہا جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔
والفَيء على ذلك الرحم الظالم: العَطفُ عليه والرجوع إلى بِرّه.
📝 نوٹ / توضیح: "الفَيء" اس ظالم رشتے دار پر: یعنی اس پر شفقت کرنا اور اس کے ساتھ نیکی کی طرف لوٹنا۔