المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. قصة مكاتبة سلمان الفارسي - رضى الله عنه -
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مکاتبت (آزادی کے معاہدے) کا واقعہ
حدیث نمبر: 2898
أخبرني أبو القاسم عبد الرحمن بن الحَسَن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عاصم بن سليمان وعلي بن زيد (2) ، عن أبي عثمان النَّهْدي، عن سلمان، قال: كاتبتُ أهلي على أن أغرِسَ لهم خمسَ مئة فَسِيلةٍ، فإذا عَلِقَتْ فأنا حُرٌّ، فأتيتُ النبي ﷺ فذكرتُ ذلك له، فقال:"اغرِسْ، واشترِط لهم، فإذا أردتَ أن تَغرِسَ فآذِنِّي"، فجاء فجعل يَغرِس، إلّا واحدةً غَرَستُها بيدي، فعَلِقَت جميعًا إلّا الواحدةَ (1) .
هذا حديث صحيح من حديث عاصم بن سليمان الأحول على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2862 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح من حديث عاصم بن سليمان الأحول على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2862 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے آقا نے مجھے اس بات پر مکاتب بنایا ہے کہ میں ان کے لیے کھجور کے 500 پودے کاشت کروں، جب وہ درخت بن جائیں تو میں آزاد ہوں گا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ معاملہ آپ سے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) پودے کاشت کرو اور ان کے ساتھ یہ شرط طے کر لو اور جب پودے لگانے کا ارادہ کرو تو مجھے بلا لینا (انہوں نے جب پودے لگانے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیا چنانچہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم (وہاں) تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام پودے اپنے ہاتھ سے لگائے۔ صرف ایک پودا میں نے اپنے ہاتھ سے لگایا تو اسی ایک کے سوا باقی تمام پودے درخت بن گئے۔ ٭٭ عاصم بن سلیمان کی سند کے ہمراہ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2898]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2898 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: يزيد.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "یزید" بن گیا ہے۔
(1) إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن الحسن القاضي، وقد انفرد في هذا الإسناد بذكر عاصم بن سليمان - وهو الأحول - وإنما هذا الخبر بهذه السياقة لعلي بن زيد - وهو ابن جُدعان - كذلك رواه جماعة من الحُفاظ عن عفان بن مسلم، وعلي بن زيد هذا ضعيف باتفاق، وعليه فما وقع في "مسند أحمد" من تصحيح الحديث اغترارًا بذكر عاصم بن سليمان هنا غير صحيح البتة، والله ولي التوفيق في "مسنده" (469).
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "عبد الرحمن بن الحسن القاضی" کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: وہ اس سند میں "عاصم بن سلیمان" (الاحول) کا ذکر کرنے میں منفرد ہیں۔ درحقیقت یہ خبر اس سیاق کے ساتھ "علی بن زید" (ابن جدعان) کی روایت ہے، جسے حفاظ کی ایک جماعت نے عفان بن مسلم سے روایت کیا ہے، اور علی بن زید بالاتفاق ضعیف ہیں۔ لہذا "مسند احمد" (469) میں جو عاصم بن سلیمان کے ذکر سے دھوکہ کھا کر حدیث کی تصحیح کی گئی ہے، وہ ہرگز درست نہیں ہے۔ واللہ ولی التوفیق۔
وأخرجه أحمد 39/ (23730) عن عفان بن مسلم، عن حماد سلمة، عن علي بن زيد وحده به. وكذلك رواه أبو بكر بن أبي شيبة في "مسنده" (469) وابن سعد في "الطبقات" 4/ 75 عن عفان دون ذكر عاصم بن سليمان.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/ 23730) نے عفان بن مسلم سے، انہوں نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے تنہا علی بن زید سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اسی طرح ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی "مسند" (469) اور ابن سعد نے "الطبقات" (4/ 75) میں عفان سے روایت کیا ہے اور اس میں عاصم بن سلیمان کا ذکر نہیں ہے۔
وقد قدّمنا برقم (2213) بيان اختلاف الرواة لخبر إسلام سلمان فيما أدّاه مقابل مكاتبته.
🧾 تفصیلِ روایت: ہم نمبر (2213) پر سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے اور مکاتبت (آزادی) کے بدلے ادا کی گئی چیز کے بارے میں راویوں کا اختلاف بیان کر چکے ہیں۔