🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. أنزل القرآن جملة واحدة فى ليلة القدر إلى السماء الدنيا
قرآن مجید کو لیلۃ القدر میں ایک ساتھ آسمانِ دنیا پر نازل کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2915
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا داود بن أبي هِنْد، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: أَنزل اللهُ القرآنَ جملةً واحدةً إلى السماءِ (1) الدنيا ليلةَ القَدْر، ثم أُنزِلَ بعدَ ذلك بعشرين سنة: ﴿وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا﴾ [الفرقان: 33] ؛ ﴿وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا﴾ [الإسراء: 106] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2879 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے شب قدر میں یکبارگی پورا قرآن آسمان دنیا پر نازل فرمایا پھر اس کے بعد 20 سالوں میں (بتدریج) نازل کیا۔ (وَلَا یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰکَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرً) (الفرقان: 33) اور وہ کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم حق اور اس سے بہتر بیان لے آئیں گے ۔ (،) (وقرآنًا فرقناہ لتقراہ علی الناس علی مکث ونزّلناہ تنزیلاً) (الاسراء: 106) اور قرآن ہم نے جدا جدا کر کے اتارا کہ تم اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو اور ہم نے اسے بتدریج رہ رہ کر اتارا ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2915]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2915 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: من السماء، والمثبت من "تلخيص المستدرك" للذهبي ومن "دلائل النبوة" للبيهقي 7/ 131 حيث أخرجه عن المصنف بإسناده ومتنه، وهو الصواب.
📝 تصحیحِ متن: قلمی نسخوں میں الفاظ "من السماء" ہیں، جبکہ یہاں جو متن (المثبت) درج کیا گیا ہے وہ ذہبی کی "تلخیص المستدرک" اور بیہقی کی "دلائل النبوۃ" (7/ 131) سے لیا گیا ہے، جہاں انہوں نے اسے مصنف کی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے، اور یہی درست ہے۔
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ اسناد: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه النسائي (11308) عن أحمد بن سليمان، عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
📖 حوالہ / تخریج: اسے نسائی (11308) نے احمد بن سلیمان عن یزید بن ہارون کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (ماقبل ملاحظہ کریں)۔