المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. إن رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - يأمركم أن يقرأ كل رجل منكم كما علم
سیدنا رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص اسی طرح پڑھے جس طرح اسے سکھایا گیا
حدیث نمبر: 2921
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله قال: أقرأَني رسول الله ﷺ سورةَ (حم) ، ورُحْتُ إلى المسجد عَشِيَّةً، فجلس إليَّ رَهْطٍ، فقلت لرجل من الرَّهْط: اقرأْ عليَّ، فإذا هو يقرأُ حروفًا لا أقرؤُها، فقلت له: مَن أقرأَكَها؟ قال: أقرأَنيها رسول الله ﷺ، فانطَلَقْنا إلى رسول الله ﷺ وإذا عنده رجل، فقلت: اختَلَفْنا في قراءتنا، وإذا وجهُ رسول الله ﷺ قد تغيَّر ووَجَدَ في نفسه حين ذكرتُ له الاختلاف، فقال:"إنما أهلَكَ من كان قبلَكم الاختلافُ"، ثم أسرَّ إلى عليٍّ، فقال عليٌّ: إنَّ رسول الله ﷺ يأمرُكم أن يقرأَ كلُّ رجل منكم كما عُلِّم، فانطَلَقْنا وكلُّ رجل منا يقرأُ حروفًا لا يقرؤُها صاحبُه (2) .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ حم پڑھائی۔ پھر میں شام کے وقت مسجد میں آیا تو کچھ لوگ میرے ساتھ آ بیٹھے، میں نے ان میں سے ایک آدمی سے کہا: تم مجھے (سورۃ حم) سناؤ، جب اس نے سورۃ سنائی تو اس میں کچھ الفاظ ایسے تھے جو میں نے نہیں پڑھے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا: تمہیں یہ سورۃ کس نے پڑھائی ہے؟ اس نے کہا: مجھے یہ سورت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے۔ ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئے۔ آپ کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، میں نے اس سے کہا کہ ہم دونوں کی قراءتوں میں فرق آ رہا ہے۔ جب میں نے اس کو اختلاف کے متعلق بتایا تو یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ (غصہ کی وجہ سے) متغیر ہونے لگا۔ پھر آپ نے فرمایا: تم سے پہلی قوموں کو اختلاف نے ہی برباد کر ڈالا تھا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے میرے کان میں سرگوشی میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ ہر شخص اسی طریقہ سے قراءت کرے جیسے میں نے اس کو سکھایا ہے۔ تو ہم لوگ وہاں سے چل دیئے اور ہم ایک دوسرے سے قراءت میں فرق سے تلاوت کیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2921]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2921 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناده حسن من أجل عاصم: هو ابن أبي النَّجود. زر: هو ابن حُبيش، وعبد الله: هو ابن مسعود. ¤ ¤ وأخرجه ابن حبان (747) من طريق عامر بن مُدرِك، عن عاصم، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث و اسناد: حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند عاصم (ابن ابی النجود) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ زر سے مراد "ابن حبیش" اور عبداللہ سے مراد "ابن مسعود" ہیں۔ 📖 حوالہ / تخریج: اسے ابن حبان (747) نے عامر بن مدرک عن عاصم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 7/ (3981) و (3992) و (3993) و (4322)، وابن حبان (746) من طرق عن عاصم، به.
📖 حوالہ / تخریج: اسے احمد (7/ 3981، 3992، 3993، 4322) اور ابن حبان (746) نے عاصم کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه مختصرًا أحمد 6/ (3803) من طريق همام، عن عاصم، عن أبي وائل، عن ابن مسعود.
📖 حوالہ / تخریج: اسے احمد (6/ 3803) نے ہمام عن عاصم عن ابی وائل عن ابن مسعود کے طریق سے مختصر الفاظ میں (بنحوہ مختصراً) روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 6/ (3724) و 7/ (3907) و (3908) و (4364)، والبخاري (2410) و (3476) و (5062)، والنسائي (8040) من طريق النَّزّال بن سَبْرة، عن عبد الله بن مسعود ولم يذكر فيه عليًّا.
📖 حوالہ / تخریج: اسے احمد (6/ 3724، 7/ 3907، 3908، 4364)، بخاری (2410، 3476، 5062) اور نسائی (8040) نے نزال بن سبرہ عن عبداللہ بن مسعود کے طریق سے روایت کیا ہے اور اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔