المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا عَلِمَ
سیدنا رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص اسی طرح پڑھے جس طرح اسے سکھایا گیا
حدیث نمبر: 2921
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله قال: أقرأَني رسول الله ﷺ سورةَ (حم) ، ورُحْتُ إلى المسجد عَشِيَّةً، فجلس إليَّ رَهْطٍ، فقلت لرجل من الرَّهْط: اقرأْ عليَّ، فإذا هو يقرأُ حروفًا لا أقرؤُها، فقلت له: مَن أقرأَكَها؟ قال: أقرأَنيها رسول الله ﷺ، فانطَلَقْنا إلى رسول الله ﷺ وإذا عنده رجل، فقلت: اختَلَفْنا في قراءتنا، وإذا وجهُ رسول الله ﷺ قد تغيَّر ووَجَدَ في نفسه حين ذكرتُ له الاختلاف، فقال:"إنما أهلَكَ من كان قبلَكم الاختلافُ"، ثم أسرَّ إلى عليٍّ، فقال عليٌّ: إنَّ رسول الله ﷺ يأمرُكم أن يقرأَ كلُّ رجل منكم كما عُلِّم، فانطَلَقْنا وكلُّ رجل منا يقرأُ حروفًا لا يقرؤُها صاحبُه (2) .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ حم پڑھائی۔ پھر میں شام کے وقت مسجد میں آیا تو کچھ لوگ میرے ساتھ آ بیٹھے، میں نے ان میں سے ایک آدمی سے کہا: تم مجھے (سورۃ حم) سناؤ، جب اس نے سورۃ سنائی تو اس میں کچھ الفاظ ایسے تھے جو میں نے نہیں پڑھے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا: تمہیں یہ سورۃ کس نے پڑھائی ہے؟ اس نے کہا: مجھے یہ سورت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے۔ ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئے۔ آپ کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، میں نے اس سے کہا کہ ہم دونوں کی قراءتوں میں فرق آ رہا ہے۔ جب میں نے اس کو اختلاف کے متعلق بتایا تو یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ (غصہ کی وجہ سے) متغیر ہونے لگا۔ پھر آپ نے فرمایا: تم سے پہلی قوموں کو اختلاف نے ہی برباد کر ڈالا تھا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے میرے کان میں سرگوشی میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ ہر شخص اسی طریقہ سے قراءت کرے جیسے میں نے اس کو سکھایا ہے۔ تو ہم لوگ وہاں سے چل دیئے اور ہم ایک دوسرے سے قراءت میں فرق سے تلاوت کیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2921]
حدیث نمبر: 2922
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا علي بن محمد بن أبي الشَّوَارب، حدثنا أبو الوليد الطَّيَالِسي، حدثنا أبو عَوَانة، عن عاصم، فذكر الحديث بإسناده نحوَه، قال فيه: فانطلقنا إلى رسول الله ﷺ وإذا عنده رجلٌ؛ قال زِرٌّ: إنهم يَلعَنُونه (1) ! يعني عليًّا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2885 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2885 - صحيح
مذکورہ سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے اس میں یہ ہے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کے ہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، زر کہتے ہیں: انہوں نے اس آدمی کا نام ذکر کیا ہے یعنی وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2922]
حدیث نمبر: 2923
أخبرنا أبو حفص عمر بن محمد بن صفوان الجُمَحي بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز بن يحيى، حدثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدثنا عبد الرحمن (3) ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن خارِجةَ بن زيد، عن أبيه زيد بن ثابت قال: القراءةُ سُنَّة؛ قال سليمان: يعني: أن لا تخالفَ الناسَ برأيك في الاتِّباع (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2887 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2887 - صحيح
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قراءتیں 7 ہیں۔ سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی رائے کی بناء پر اتباع کرنے میں لوگوں سے اختلاف مت کر۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2923]
حدیث نمبر: 2924
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَختَري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله قال: قرأْنا المفصَّلَ بمكة حِجَجًا ليس فيه: يا أيُّها الذين آمَنوا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2888 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2888 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے حج کے دوران مکہ میں ” مفصل “ سورتیں پڑھیں، ان میں (کہیں بھی) ” یا ایھا الذین امنوا “ (کے الفاظ) نہیں ہے۔ (مفصل سورتوں سے مراد قرآن کریم کی آخری سات سورتیں ہیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جن آیات میں (یاایھا الذین آمنوا) کے الفاظ ہیں وہ مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور جن میں ” یاایھاالناس) کے الفاظ ہیں وہ مکہ میں نازل ہوئی ہیں۔ شفیق) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2924]
حدیث نمبر: 2925
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن بن أحمد الأسَدي، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا آدم بن أبي إيَاس، حدثنا شُعْبة، عن عاصم، عن زِرِّ، عن أُبيِّ بن كعب قال: قال لي رسول الله ﷺ:"إنَّ الله أمَرني أن أقرأَ عليك القرآنَ"، فقرأ: ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ﴾ [البينة: 1] ، ومِن نَعتِها:"لو أنَّ ابنَ آدمَ سأَل واديًا من مالٍ فأُعطِيَه سأل ثانيًا، وإن سأَل ثانيًا فأُعطِيَه سأل ثالثًا، ولا يَملأُ جوفَ ابنِ آدمَ إِلَّا الترابُ، ويتوبُ الله على من تاب، وإن ذاتَ الدِّينِ عند الله الحَنِيفيَّةُ غيرُ اليهوديةِ ولا النصرانيةِ، ومن يَعمَلْ خيرًا فلن يُكفَرَه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2889 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2889 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھے قرآن سناؤں پھر آپ نے مجھے: (لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَ الْمُشْرِکِیْنَ) (البینۃ: 1) ” کتابی کافر اور مشرک اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آئے “۔ اور اس کی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ اگر انسان پوری ایک وادی مال مانگے اور میں اس کو دے دوں تو وہ دوسری وادی کا بھی سوال کرے گا اور میں اس کو دوسری وادی بھی دے دوں تو وہ تیسری کا سوال کرے گا۔ ابن آدم کا پیٹ، مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول دین ” حنیفیہ “ ہے۔ یہودیت اور نصرانیت نہیں ہے جو شخص نیک عمل کرے گا اس (کے ثواب) کو ہرگز ضائع نہیں کیا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2925]
حدیث نمبر: 2926
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان بن مسلم وأبو الوليد الطَّيَالسي قالا: حدثنا أبو عَوَانة، عن الأسود بن قيس، عن نُبَيح العَنَزي، عن ابن عبَّاس قال: بينما أنا أقرأُ آيةً من كتاب الله ﷿، وأنا أمشي في طريقٍ من طرق المدينة، فإذا أنا برجل يناديني من بعدي: أتبِعِ ابنَ عبَّاس، فإذا هو أميرُ المؤمنين عمر، فقلت: أُتبِعُك على أُبيِّ بن كعب، فقال: أهو أقرأَكَها كما سمعتُك تقرأُ؟ قلت: نعم، قال: فأرسَلَ معي رسولًا، قال: اذهَبْ معه إلى أُبيِّ بن كعب فانظُرْ أيَقرأُ أُبيٌّ كذلك، قال: فانطلقتُ أنا ورسولُه إلى أُبي بن كعب، فقلت: يا أُبيُّ، قرأتُ آيةً من كتاب الله فناداني مِن بعدي عمرُ بن الخطَّاب: أتبِعِ ابنَ عبَّاس، فقلت: أُتبِعُك على أُبيِّ بن كعب، فأرسَلَ معي رسولَه، أفأنت أقرأْتَنِيها كما قرأتُ؟ قال أُبيّ: نعم، قال: فرَجَعَ الرسولُ إليه، فانطلقتُ أنا إلى حاجَتي، قال: فراح عمرُ إلى أُبيّ فوَجَدَه قد فَرَغَ من غَسْل رأسه ووَلِيدتُه تَدَّرِي لحيتَه بمِدْراها، فقال أُبي: مرحبًا يا أمير المؤمنين، أزائرٌ جئتَ أم طالبُ حاجةٍ؟ فقال عمر: بل طالبُ حاجة، قال: فجلس ومعه مَولَيَانِ له، حتى فرغ من لحيته وادَّرَتْ جانبَه الأيمنَ من لِمَّتِه، ثم ولَّاها جانبَه الأيسرَ، حتى إذا فرغ أقبلَ إلى عمر بوجهه، فقال: ما حاجةُ أمير المؤمنين، قال عمر: يا أُبيُّ، عَلَامَ تُقنِّطُ الناسَ؟ قال أُبي: يا أمير المؤمنين، إني تلقَّيتُ القرآنَ ممَّن تلقَّاه (1) [من] جبريلَ وهو رَطْبٌ، فقال عمر: تَاللهِ ما أنت بمُنتَهٍ وما أنا بصابرٍ؛ ثلاثَ مرات، ثم قام فانطَلَق (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2890 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2890 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دفعہ مدینے کے راستے سے قرآن کریم کی ایک آیت پڑھتا ہوا گزر رہا تھا تو اچانک پیچھے سے ایک آدمی نے آواز دے کر کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اتباع کرو۔ (جب میں نے مڑ کر دیکھا تو) وہ امیرالمومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان سے کہا: میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا میں نے آپ کو جیسے پڑھتے ہوئے سنا ہے کیا انہوں نے تمہیں اسی طرح پڑھایا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے میرے ہمراہ اپنا ایک قاصد بھیجا اور کہا: اس کے ساتھ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور اس بات کی تحقیق کر کے آؤ کہ کیا واقعی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اسی طرح پڑھاتا ہے۔ چنانچہ میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قاصد دونوں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس چلے آئے، میں نے کہا: اے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ! میں فلاں آیت پڑھتے ہوئے جا رہا تھا کہ مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پیچھے سے آواز دی اور کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اتباع کرو۔ میں نے کہا: میں تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتا ہوں انہوں نے میرے ہمراہ اپنا قاصد بھیجا ہے (آپ اس کو بتایئے کہ) میں جیسے قراءت کر رہا ہوں کیا آپ نے مجھے وہی قراءت سکھائی ہے؟ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بولے: جی ہاں (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی یہ تصدیق سن کر) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قاصد واپس چلا گیا اور میں اپنے کام چلا گیا (راوی کہتے ہیں) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شام کے وقت (خود) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس چلے آئے۔ اس وقت (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) سر دھو کر فارغ ہوئے تھے اور ان کی بچی ان کی داڑھی میں کنگھی کر رہی تھی۔ ابی رضی اللہ عنہ بولے: امیرالمومنین رضی اللہ عنہ کو خوش آمدید، آپ صرف زیارت کے لیے آئے ہیں یا کوئی کام تھا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: (میں صرف ملاقات کے لیے نہیں) بلکہ کام سے آیا ہوں۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور ان کے ہمراہ دو غلام بھی تھے۔ جب داڑھی سنوار کر فارغ ہوئے تو اپنی زلفوں کو سنوارا، جب زلفیں سنوار کر فارغ ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب متوجہ ہو کر بولے: امیرالمومنین رضی اللہ عنہ کو کیا کام ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: اے ابی رضی اللہ عنہ تم کس بناء پر لوگوں کو مایوس کیے جا رہے ہو؟ ابی رضی اللہ عنہ بولے: اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ میں نے جوانی اور صحت کے دنوں میں سیدنا جبریل علیہ السلام امین کی جانب سے قرآن سیکھا ہے۔ (اس لیے میری قراءت غلط نہیں ہو سکتی) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: تو احسان ماننے والا نہیں اور میں صبر کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ بات تین مرتبہ بولی اور وہاں سے چلے آئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2926]
حدیث نمبر: 2927
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا العبَّاس بن الوليد (3) بن مَزيَد، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثنا عبد الله بن العلاء بن زَبْر، عن بُسْر ابن عُبيد الله، عن أبي إدريس، عن أُبيِّ بن كعب: أنه كان يقرأُ: (إذْ جَعَلَ الذين كفروا في قلوبِهمُ الحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الجاهليةِ، ولو حَمِيتُم كما حَمَوْا لَفَسَدَ المسجدُ الحرامُ، فأنزَلَ اللهُ سَكِينتَه على رسولِه) (1) ، فبَلَغَ ذلك عمرَ فاشتَدَّ عليه، فبَعَثَ إليه وهو يَهنَأُ ناقةً له، فدخل عليه، فدَعَا ناسًا من أصحابه فيهم زيدُ بن ثابت، فقال: مَن يَقرَأُ منكم سورةَ الفتح؟ فقرأَ زيدٌ على قراءتنا اليومَ، فغَلَّظَ لهُ (2) عمرُ، فقال له أُبي: أأتكلَّمُ؟ فقال: تكلَّمْ، فقال: لقد عَلِمتَ أني كنتُ أَدخُلُ على النبي ﷺ ويُقرِئُني وأنتم بالباب، فإن أحببتَ أن أُقرِئَ الناسَ على ما أقرأَني، أقرأتُ، وإلَّا لم أُقرِئْ حرفًا ما حَيِيتُ، قال: بل أقرِئِ الناس (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2891 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2891 - على شرط البخاري ومسلم
٭٭ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سورۃ فتح کی آیت نمبر 26 یوں پڑھا کرتے تھے: یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو وہ اس بات پر سخت برہم ہوئے، انہوں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف ایک آدمی بھیجا، اس وقت وہ اپنے اونٹ پر تارکول مل رہے تھے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود ان کے پاس چلے آئے اور ان کے کچھ ساتھیوں کو بلایا، ان میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: تم میں سے کون سورۂ فتح پڑھے گا؟ تو زید رضی اللہ عنہ نے ہمارے طریقے کے مطابق قراءت کی۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان پر بھی ناراض ہوئے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں کچھ بولوں؟ آپ نے کہا: بولو۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل قریب بیٹھا کرتا تھا اور آپ مجھے قرآن سنایا کرتے تھے جبکہ تم لوگ اس وقت دروازے پر ہوتے تھے، اب اگر آپ کہتے ہیں کہ میں نے جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سنا ہے اسی طرح لوگوں کو سناتا رہوں تو میں سناتا رہوں گا اور اگر آپ نہیں چاہتے تو میں ساری زندگی ایک حرف بھی زبان سے نہیں نکالوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: (نہیں) بلکہ آپ لوگوں کو قرآن سناتے رہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2927]
حدیث نمبر: 2928
أخبرني إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدثنا محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا جعفر بن سليمان، حدثنا أبو عِمران الجَوْني، عن جُندُب قال: أتيتُ المدينة لأتعلَّمَ العلمَ، فلما دخلتُ مسجدَ رسول الله ﷺ إذا الناسُ فيه حَلَقٌ يتحدَّثون، قال: فجعلتُ أَمضي حتى انتهيتُ إلى حَلْقَةٍ فيها رجل شاحبٌ عليه ثوبانِ كأنما قَدِمَ من سفر، فسمعتُه يقول: هَلَكَ أصحابُ العَقْدِ وربِّ الكعبة، ولا آسَى عليهم - يقولها ثلاثًا - هَلَكَ أصحابُ العَقْد وربِّ الكعبة، هَلَكَ أصحابُ العَقْد وربِّ الكعبة (1) ، قال: فجلستُ إليه فتحدَّث ما قُضِيَ له، ثم قام، فسألتُ عنه، فقالوا: هذا سيِّدُ الناس أُبيُّ بن كعب. قال: فتبعتُه إلى منزله، فإذا هو رَثُّ المنزل، رَثُّ الكِسْوة، رثُّ الهيئة، يُشبِهُ أمرُه بعضُه بعضًا، فسلَّمتُ عليه، فردَّ عليَّ السلامَ، قال: ثم سألني: ممَّن أنت؟ قال: قلت: من أهل العراق قال: أكثرُ شيءٍ سؤالًا، وغَضِبَ، قال: فاستقبلتُ القِبلةَ، ثم جَثَوتُ على ركبتيَّ ورفعتُ يديَّ هكذا - ومدَّ ذراعيه - فقلت: اللهمَّ إنا نَشكُوهم إليك، إنا نُنفِقُ نَفَقاتِنا ونُنصِبُ أبدانَنا، ونَرحَلُ مَطَايانا ابتغاءَ العلم، فإذا لَقِيناهم تَجهَّموا لنا، وقالوا لنا، قال: فبَكَى أُبيٌّ وجعل يترضَّاني، ويقول: وَيحَك، إني لم أَذهب هناك، ثم قال أُبيّ: أعاهدُك لَئِن أَبقَيتَني إلى يوم الجمعة لأتكلَّمَنَّ بما سمعتُ من رسول الله ﷺ، لا أخافُ فيه لومةَ لائم، قال: ثم انصرفتُ عنه وجعلت أنتظرُ يومَ الجمعة، فلما كان يومُ الخميس خرجتُ لبعض حاجتي، فإذا الطريقُ مملوءةٌ من الناس لا آخُذُ فِي سِكَّة إلّا استقبَلَني الناسُ، قال: فقلت: ما شأنُ الناس؟ قالوا: إنا نَحسَبُك غريبًا، قال: قلت: أجل، قالوا: مات سيدُ الناس أبيُّ بن كعب، قال: فلَقِيتُ أبا موسى بالعراق فحدَّثتُه، فقال: هلَّا كان يبقى حتى تَبلُغَنا مَقَالتُه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2892 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2892 - على شرط مسلم
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں حصول علم کی خاطر آیا، جب میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو وہاں پر لوگ حلقوں کی صورت میں بیٹھے باہم گفتگو کر رہے تھے۔ میں ان میں سے گزرتا ہوا ایک حلقہ میں پہنچا، اس میں دو کپڑوں میں ملبوس ایک لاغر سا آدمی بیٹھا ہوا تھا، لگتا تھا کہ وہ ابھی ابھی کسی سفر سے آیا تھا، میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: رب کعبہ کی قسم ” اصحاب عقد “ ہلاک ہو گئے اور مجھے ان سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات تین بار کہی: رب کعبہ کی قسم! ” اصحابِ عقد “ ہلاک ہو گئے، رب کعبہ کی قسم! ” اصحاب عقد “ ہلاک ہوئے، رب کعبہ کی قسم! ” اصحاب عقد “ ہلاک ہو گئے۔ میں ان کے قریب بیٹھ گیا وہ اپنی آپ بیتی سنا رہے تھے پھر وہ اٹھ گئے۔ میں نے ان سے متعلق لوگوں سے دریافت کیا تو مجھے لوگوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کے سردار سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے (جندب) کہتے ہیں: میں ان کے پیچھے چل دیا اور چلتا چلتا ان کے گھر تک پہنچ گیا (میں نے ان کے گھر کی حالت دیکھی) بہت خستہ حالت تھی، لباس بھی کوئی خاص نہ تھا اور ان کی اپنی بھی حالت پراگندہ تھی اور ان کا رہن سہن بالکل عام لوگوں جیسا تھا۔ میں نے ان کو سلام کیا، انہوں نے مجھے سلام کا جواب دیا اور پھر مجھ سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا: عراق سے۔ انہوں نے کہا: یہ لوگ بہت سوالات کرتے ہیں، اور پھر وہ ناراض ہو گئے، میں قبلہ رو ہوا اور اپنے گھٹنوں کے بل جھک گیا اور یوں اپنے ہاتھ بلند کیے (یہ کہتے ہوئے انہوں نے) اپنے دونوں بازو کھول دیئے، میں نے کہا: میں تو آپ کے پاس ان کی شکایت لے کر آیا ہوں، ہم نے حصول علم کی خاطر اپنے مال خرچ کیے، اپنے جسم پیش کیے اور اپنی سواریوں کو چلایا لیکن جب ہم ان سے ملے تو وہ ہم سے ترش روئی کے ساتھ پیش آئے اور ہم سے نامناسب گفتگو کی (جندب) کہتے ہیں: (میری یہ بات سن کر) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے اور مجھے راضی کرتے ہوئے بولے: افسوس! کہ میں ابھی وہاں تک نہیں جا سکا۔ پھر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بولے: میرا تیرے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ اگر اس جمعہ تک میری زندگی رہی تو میں تمہیں ایسی بات بتاؤں گا جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور اس سلسلے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا (جندب) کہتے ہیں: میں واپس آ گیا اور جمعہ کا انتظار کرنے لگا۔ جب جمعرات آئی تو میں اپنے ایک ضروری کام سے باہر نکلا تو تمام گلیوں بازاروں میں بہت رش تھا۔ میں جس گلی میں بھی گیا وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ملی، میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ تو لوگوں نے جواب دیا: شاید آپ یہاں کے رہنے والے نہیں ہیں۔ میں نے کہا: جی ہاں۔ لوگوں نے بتایا: سیدالمسلمین سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وفات پا گئے ہیں۔ (جندب) کہتے ہیں: پھر میں عراق میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا: کاش کہ وہ زندہ رہتے اور ان کی وہ بات ہم تک پہنچ جاتی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2928]