🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. ما أحسن محسن من مسلم ولا كافر إلا أثابه الله
جو بھی نیکی کرنے والا ہو، خواہ مسلمان ہو یا کافر، اللہ اسے اس کا بدلہ ضرور دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3039
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتري عبد الله بن محمد ابن شاكر، حدثنا جعفر بن عَوْن، حدثنا الأجلَح بن عبد الله، عن الذَّيَّال بن حَرمَلة، عن جابر بن عبد الله قال: اجتمعت قريشٌ يومًا، فأتاه عتبةُ بن رَبيعة بن عبد شمس فقال: يا محمد، أنت خيرٌ أم عبدُ الله؟ فَسَكَتَ رسولُ الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ:"أَفَرَغْتَ؟" قال: نعم، فقال رسول الله ﷺ: ﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. حم (1) تَنْزِيلٌ﴾ حتى بلغ ﴿فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ﴾ [فصلت: 1 - 13] ، فقال له عُتْبة: حَسْبُكَ حَسْبُك، ما عندَك غيرُ هذا؟ قال:"لا" فرجع عتبةُ إلى قريش فقالوا: ما وراءَك؟ فقال: ما تركتُ شيئًا أرى أنكم تكلِّمونه إلّا كلَّمتُه، قالوا: فهل أجابَك؟ قال: نعم، لا والذي نَصَبَها بَنِيَّةً ما فهمتُ شيئًا مما قال، غيرَ أنه قال: أنذرتُكم صاعقةً مثلَ صاعقة عاد وثمود، قالوا: ويلَك، يكلِّمُك رجلٌ بالعربية، ولا تدري ما قال! قال: لا والله ما فهمتُ شيئًا ممّا قال غيرَ ذِكْر الصاعقة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3002 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن تمام قریش جمع تھے کہ آپ کے پاس عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس آیا اور بولا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! (آپ بہتر ہیں یا عبداللہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ آپ نے اس سے کہا: تم (اپنی بات کہہ کر) فارغ ہو چکے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر سورۂ فصلت شروع سے پڑھنا شروع کی اور فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَ ثَمُوْدَ (فصلت: 13) تک۔ پڑھی (یہ سن کر) عتبہ بولا: بس، بس۔ آپ کے پاس تو اس کے سوا اور کچھ ہے ہی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ عتبہ، قریش کے پاس گیا، قریش نے احوال دریافت کیے تو وہ بولا: تم جو کچھ پوچھنا چاہتے تھے، میں وہ سب کچھ وہاں بول کر آیا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: کیا اس (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کوئی جواب دیا؟ اس نے کہا: جی ہاں خدا کی قسم! اس نے جو کچھ بھی کہا: مجھے اس کی کچھ سمجھ نہیں آئی سوائے اس کے کہ وہ تمہیں قوم ثمود اور عاد جیسے عذاب سے ڈراتا ہے۔ قریش نے کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو، ایک آدمی تیرے ساتھ عربی میں بات کرتا ہے اور تمہیں پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیا کہتا ہے۔ اس نے کہا: خدا کی قسم مجھے سوائے صاعقہ کے ذکر کے اور کسی بات کی سمجھ نہیں آئی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3039]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3039 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في إسناده لِين، الأجلح بن عبد الله يعتبر به في المتابعات والشواهد، وقد تفرد به من هذا الوجه، والذيّال بن حرملة روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند میں ’لین‘ (کمزوری/نرمی) ہے، اجلح بن عبداللہ کا اعتبار متابعات اور شواہد میں کیا جاتا ہے، اور وہ اس طریق سے منفرد ہیں، اور ذیال بن حرملہ سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه ابن أبي شيبة 14/ 295 - 296، وعبد بن حميد (1123)، وأبو يعلى (1818)، وأبو نعيم في "الدلائل" (182) من طريق علي بن مسهر، وأبو جعفر النحاس في "إعراب القرآن" 4/ 37 - 38، والبيهقي في "الدلائل" 20/ 202 - 203، والبغوي في "تفسيره" 7/ 167 - 168، وقوام السنة الأصبهاني في "الدلائل" (307)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 38/ 242 - 243 من طريق محمد بن فضيل، كلاهما عن الأجلح، بهذا الإسناد. وسياق حديث علي بن مسهر أقربهما إلى سياق حديث جعفر بن عون.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل ابن ابی شیبہ 14/ 295 - 296، عبد بن حمید (1123)، ابو یعلیٰ (1818)، ابو نعیم نے "الدلائل" (182) میں علی بن مسہر کے طریق سے؛ اور ابو جعفر النحاس نے "إعراب القرآن" 4/ 37 - 38، بیہقی نے "الدلائل" 20/ 202 - 203، بغوی نے "تفسيره" 7/ 167 - 168، قوام السنہ الاصبہانی نے "الدلائل" (307)، اور ابن عساکر نے "تاريخ دمشق" 38/ 242 - 243 میں محمد بن فضیل کے طریق سے، دونوں نے اجلح سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور علی بن مسہر کی حدیث کا سیاق جعفر بن عون کی حدیث کے سیاق سے زیادہ قریب ہے۔
قال الحافظ ابن كثير في "تفسيره" 7/ 151: وقد أورد هذه القصة الإمام محمد بن إسحاق بن يسار في كتاب "السيرة" على خلاف هذا النمط، فقال: حدثني يزيد بن زياد عن محمد بن كعب القُرظي قال: حُدِّثت أنَّ عتبة بن ربيعة … وساقه بطوله، ثم قال: وهذا السياق أشبه من الذي قبله (يعني حديث الأجلح) والله أعلم. قلنا: انظر سياقه في "سيرة ابن هشام" 1/ 293 - 294.
📌 اہم نکتہ: حافظ ابن کثیر نے "تفسيره" 7/ 151 میں فرمایا: امام محمد بن اسحاق بن یسار نے کتاب "السیرۃ" میں یہ قصہ اس انداز کے خلاف ذکر کیا ہے، چنانچہ انہوں نے کہا: مجھے یزید بن زیاد نے محمد بن کعب القرظی سے بیان کیا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ عتبہ بن ربیعہ نے... (پھر اسے طویل ذکر کیا)، پھر فرمایا: اور یہ سیاق ماقبل والے (یعنی اجلح کی حدیث) سے زیادہ ’اشبہ‘ (قرین قیاس) ہے، واللہ اعلم۔ 📝 نوٹ / توضیح: ہم کہتے ہیں: اس کا سیاق "سيرة ابن هشام" 1/ 293 - 294 میں دیکھیں۔