المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. الدعاء عند ركوب الدابة
سواری پر سوار ہوتے وقت کی دعا
حدیث نمبر: 3048
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزير التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرَّازي، حدثنا محمد بن يزيد بن سِنان الرُّهَاوي، أخبرنا مَعقِل بن عبيد الله، عن عِكْرمة بن خالد، عن سعيد بن جُبْير، عن ابن عبَّاس، عن أُبيِّ ابن كعب: أنَّ النبي ﷺ قال لأُبي:"إني أُقرِئُك سورةً" فقال له أُبيّ: أُمِرتَ بذلك؟ قال:"نعم"، فقرأ: ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ (1) رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً﴾ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3011 - محمد ضعفه الدارقطني
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3011 - محمد ضعفه الدارقطني
سیدنا ابن ابی کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی رضی اللہ عنہ سے کہا میں تجھے ایک سورۃ پڑھاتا ہوں، ابی رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں کیا آپ کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ تو آپ نے (سورۃ البینہ کی پہلی دو آیتیں) لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَ الْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَھُمُ الْبَیِّنَۃُ رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُطَہَّرَۃً ” کتابی کافر اور مشرک اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آئے وہ کون وہ اللہ کا رسول کہ پاک صحیفے پڑھتا ہے “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3048]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3048 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد، محمد بن يزيد بن سنان ليس بذاك القوي وحسَّن الرأي فيه الحاكم فوثَّقه مطلقًا كما في "سؤالات" مسعود السجزي له (270)، ومعقل بن عبيد الله صدوق حسن الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث ’صحیح لغیرہ‘ ہے، اور یہ سند متابعات اور شواہد میں ’حسن‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن یزید بن سنان اتنے قوی نہیں ہیں، البتہ حاکم نے ان کے بارے میں اچھی رائے رکھی اور انہیں مطلقاً ثقہ قرار دیا جیسا کہ مسعود السجزی کی ان سے "سؤالات" (270) میں ہے، اور معقل بن عبید اللہ صدوق اور حسن الحدیث ہیں۔
وانظر ما سلف برقم (2925).
🧾 تفصیلِ روایت: اور دیکھیے جو پیچھے نمبر (2925) پر گزر چکا ہے۔
ويشهد له حديث أنس بن مالك عند البخاري (3809) ومسلم (799).
🧩 متابعات و شواہد: اور اس کی تائید (بطور شاہد) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث کرتی ہے جو بخاری (3809) اور مسلم (799) میں ہے۔