المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
30. سيدة آي القرآن آية الكرسي
قرآن کی آیات میں سب سے عظیم آیت، آیت الکرسی ہے
حدیث نمبر: 3069
أخبرني أبو أحمد محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنَّاد، حدثنا أسباط بن نصر، عن إسماعيل بن عبد الرحمن، عن مُرَّة الهَمْداني، عن ابن مسعود: ﴿الم (1) ذَلِكَ الْكِتَابُ﴾ قال: الم: حرفٌ اسمُ الله، والكِتابُ: القرآن ﴿لَا رَيْبَ فِيهِ﴾: لا شكَّ فيه (2) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3032 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3032 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ” الم ذالک الکِتَاب لاریب فیہُ “ (البقرۃ: 1-2) ” الم وہ بلند مرتبہ کتاب کوئی شک کی جگہ نہیں اس میں “۔ کے متعلق فرماتے ہیں ” الم “ ایک حرف ہے، اللہ کا نام ہے اور ” الْکِتَاب “ (سے مراد) قرآن پاک ہے ” لَا رَیْبَ فِیْہ “ (کا مطلب یہ ہے کہ) اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3069]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3069 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 1/ 97 عن موسى بن هارون الهمداني، عن عمرو القنّاد، بهذا الإسناد - واقتصر فيه على تفسير (لا ريب فيه).
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسيره" 1/ 97 میں موسیٰ بن ہارون الہمدانی سے، انہوں نے عمرو القناد سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اور اس میں صرف (لا ريب فيه) کی تفسیر پر اکتفا کیا گیا ہے۔
وأخرج أوله الطبري أيضًا 1/ 87 من طريق شعبة، عن إسماعيل بن عبد الرحمن السُّدي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کے ابتدائی حصے کو بھی طبری نے 1/ 87 میں شعبہ کے طریق سے، انہوں نے اسماعیل بن عبدالرحمن السدی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔