🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. سيدة آي القرآن آية الكرسي
قرآن کی آیات میں سب سے عظیم آیت، آیت الکرسی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3070
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن عُمَارة بن عُمير، عن عبد الرحمن بن يزيد قال: ذَكَروا عند عبد الله أصحابَ محمد ﷺ وإيمانَهم، فقال عبد الله: إِنَّ أَمْرَ محمدٍ كان بيِّنًا لمن رآه، والذي لا إلهَ غيرُه، ما آمَنَ مؤمنٌ أفضلَ من إيمانٍ بغيبٍ، ثم قرأ: ﴿الم (1) ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ﴾ إلى قوله: ﴿يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3033 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور ان کے ایمان کا تذکرہ ہوا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بولے: جس شخص نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا اس کے لیے آپ کا معاملہ بالکل واضح تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، ایمان بالغیب سے بہتر کسی مومن کا ایمان نہیں ہے۔ پھر آپ نے الم ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَارَیْبَ فِیْہِ (البقرۃ: 1-2) الم وہ بلند رتبہ کتاب کوئی شک کی جگہ نہیں اس میں ۔ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ (البقرۃ: 3) وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں ۔ تک تلاوت کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3070]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3070 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وأبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد ’ابن راہویہ‘ ہیں، اور ابو معاویہ سے مراد ’محمد بن خازم الضریر‘ ہیں۔
وأخرجه سعيد بن منصور في التفسير من "سننه" (180)، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 1/ 36.
📖 حوالہ / مصدر: اسے سعید بن منصور نے اپنی "سنن" کے (کتاب) التفسیر (180) میں، اور ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 36 میں تخریج کیا ہے۔
من طريق أبي معاوية بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: ابو معاویہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ۔
وأخرجه الواحدي في "الوسيط" 1/ 80 - 81 من طريق عبيدة بن حميد، عن الأعمش، به. وأخرجه ابن منده في "الإيمان" (209) من طريقين عن إسحاق بن راهويه، عن جرير بن عبد الحميد، عن الأعمش، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے واحدی نے "الوسيط" 1/ 80 - 81 میں عبیدہ بن حمید کے طریق سے، انہوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے؛ اور ابن مندہ نے "الإيمان" (209) میں اسحاق بن راہویہ سے دو طریقوں سے، انہوں نے جریر بن عبدالحمید سے، انہوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔