المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. كانت الرسل ثلاثمائة وخمس عشرة
انبیاء کی تعداد تین سو پندرہ تھی
حدیث نمبر: 3077
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن سعيد ابن جُبَير، عن ابن عبَّاس: ﴿ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا﴾ [البقرة: 58] قال: بابًا ضيِّقًا، قال: رُكَّعًا ﴿وَقُولُوا حِطَّةٌ﴾ قال: مغفرةٌ، فقالوا: حِنطةٌ، ودخلوا على أسْتاهِهم، فذلك قوله تعالى: ﴿فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ﴾ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3040 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3040 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول: ” اُدْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا “ (البقرۃ: 58) ” اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو “۔ (کی تفسیر کرتے ہوئے) فرماتے ہیں: تنگ دروازہ (تھا) اور ” سُجَّدًا “ کا مطلب ہے ” جھک کر “ اور ” وَقُوْلُوا حِطَّۃ ” اور کہو: ہمارے گناہ معاف ہوں “۔ کا مطلب ” مغفرت مانگو “ جبکہ وہ ” حِطَّۃ “ کہتے ہوئے، اپنے چوتڑوں کے بل داخل ہوئے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس کا درج ذیل ارشاد: ” فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ “ (البقرۃ: 59) ” ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا “۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3077]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3077 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. إسحاق بن الحسن: هو ابن ميمون أبو يعقوب الحَرْبي، وأبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النَّهْدي، وسفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن الحسن سے مراد ’ابن میمون ابو یعقوب الحربی‘ ہیں، ابو حذیفہ سے مراد ’موسیٰ بن مسعود النہدی‘ ہیں، اور سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" مقطَّعًا 1/ 117 و 118 و 119 من طريقين عن سفيان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 117، 118 اور 119 میں سفیان سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ ٹکڑوں میں (مقطّعاً) تخریج کیا ہے۔