🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. كَانَتِ الرُّسُلُ ثَلَاثَمِائَةٍ وَخَمْسَ عَشْرَةَ
انبیاء کی تعداد تین سو پندرہ تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3076
حدثني إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو تَوْبة الرَّبيع بن نافع الحلبي، حدثنا معاوية بن سلَّام، حدثني زيد بن سلَّام، أنه سمع أبا سَلَّام يقول: حدثني أبو أُمامة: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، أنبيٌّ كان آدمُ؟ قال:"نعم، مُعلَّمٌ مُكلَّم" قال: كم بينه وبين نوح؟ قال:"عَشَرَةُ قُرونٍ" قال: كم كان بين نوح وإبراهيم؟ قال: عشرة قرون قالوا: يا رسول الله، كم كانت الرُّسُلُ؟ قال:"ثلاثُ مئةٍ وخمسَ عشرةَ، جَمًّا غَفيرًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3039 - على شرط مسلم
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ وہ معلم تھے اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوا کرتے تھے۔ اس نے پوچھا: سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا زمانہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ اس نے پوچھا: سیدنا نوح علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا زمانہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کل رسول کتنے ہیں؟ آپ نے فرمایا: 315 کا ایک جم غفیر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3076]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3077
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن سعيد ابن جُبَير، عن ابن عبَّاس: ﴿ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا﴾ [البقرة: 58] قال: بابًا ضيِّقًا، قال: رُكَّعًا ﴿وَقُولُوا حِطَّةٌ﴾ قال: مغفرةٌ، فقالوا: حِنطةٌ، ودخلوا على أسْتاهِهم، فذلك قوله تعالى: ﴿فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ﴾ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3040 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول: اُدْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا (البقرۃ: 58) اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو ۔ (کی تفسیر کرتے ہوئے) فرماتے ہیں: تنگ دروازہ (تھا) اور سُجَّدًا کا مطلب ہے جھک کر اور وَقُوْلُوا حِطَّۃ اور کہو: ہمارے گناہ معاف ہوں ۔ کا مطلب مغفرت مانگو جبکہ وہ حِطَّۃ کہتے ہوئے، اپنے چوتڑوں کے بل داخل ہوئے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس کا درج ذیل ارشاد: فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ (البقرۃ: 59) ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3077]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3078
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن ابن عبَّاس قال: كيف تَسألون عن شيء وعندكم كتابُ الله! أحدثُ الأخبار بالله، وقد أخبَرَكم (1) أنهم كَتَبوا كتابًا بأيديهم وبدَّلوا وحرَّفوا وقالوا: هذا من عند الله، واشتَرَوْا به ثمنًا قليلًا، فعندكم كتابُ الله مَحْضٌ لم يُشَبْ، فوالله لا يَسألُكم أحدٌ منهم عن الذي أُنزِلَ عليكم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3041 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تم کسی چیز کے متعلق کس بناء پر سوال کرتے ہو حالانکہ تمہارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تازہ خبریں ہیں اور اس نے تمہیں یہ بھی بتایا ہے کہ یہودیوں نے خود اپنے ہاتھ سے کتابیں لکھی ہیں اور ان میں تغیر و تبدل کر رکھا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ من جانب اللہ ہے اور اس کے بدلے وہ تھوڑی سی قیمت لیتے ہیں اور تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی خالص کتاب ہے جس میں کسی قسم کی کوئی خیانت نہیں ہے۔ خدا کی قسم ان میں سے کوئی شخص تم سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرے گا جو تم پر نازل ہوئی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3078]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3079
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، حدثنا يوسف ابن موسى، حدثنا عبد الملك بن هارون بن عَنتَرة، عن أبيه، عن جدِّه، عن سعيد ابن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: كانت يهودُ خيبرَ تقاتل غَطَفَانَ، فكلَّما التَقَوْا هُزِمَت يهودُ خيبر، فعادتِ اليهودُ بهذا الدعاء فقالت: اللهمَّ إنا نسألك بحق محمدٍ النبيَّ الأُمّيِّ الذي وعدتَنا أن تخرجَه لنا في آخر الزمان إلَّا نصرتَنا عليهم، قال: فكانوا إذا التقَوْا دَعَوْا بهذا الدعاء، فهَزَموا غطفانَ، فلما بُعِثَ النبيُّ ﷺ كَفَروا به، فأنزل الله وقد كانوا يَستفتِحُون بك يا محمدُ على الكافرينَ (3) . (1) أدَّت الضَّرورةُ إلى إخراجه في التفسير، وهو غريبٌ من حديثه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3042 - لا ضرورة في ذلك أي لإخراجه فعبد الله متروك هالك
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: خیبر کے یہودیوں کی قبیلہ غطفان کے ساتھ اکثر جنگ رہتی تھی، لیکن جب بھی خیبر کے یہودی غطفان سے لڑتے تو شکست سے دوچار ہوتے۔ پھر یہودیوں نے اس دعا کے ذریعے پناہ مانگنا شروع کی اے اللہ! ہم تجھ سے اس اُمی نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے پناہ مانگتے ہیں جن کو آخری زمانے میں مبعوث کرنے کا تو نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے۔ یااللہ! تو ان کے خلاف ہماری مدد فرما تو جب بھی وہ جنگ کرتے یہی دعا مانگتے (اور اسی دعا کی برکت سے) غطفان کو شکست ہوئی لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو انہی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَکَانُوْا یَسْتَفْتِحُوْنَ (بِکَ یَا مُحَمَّدُ) عَلٰی الذِیْنَ کَفَرُوا (الْکَافِرِیْن): (البقرۃ: 89) اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلے سے کافروں پر فتح مانگتے تھے ۔ ٭٭ تفسیر میں اس حدیث کو درج کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ تاہم یہ حدیث غریب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3079]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3080
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد ابن حازم بن أبي غَرَزَة الغِفاري، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن مُسلِم البَطِين، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس: ﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ﴾ قال: اليهود ﴿وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا﴾ [البقرة: 96] قال: الأعاجم (2) . قد اتفق الشيخان على سَنَد تفسير الصحابي (3) ، وهذا إسناد صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3043 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: وَ لَتَجِدَنَّھُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ (البقرۃ: 96) اور بیشک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں ۔ (میں جن لوگوں کا تذکرہ ہے ان سے مراد) یہودی ہیں اور وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا (سے مراد) عجمی لوگ ہیں۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں صحابی کی تفسیر سے سند لاتے ہیں اور یہ اسناد شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3080]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3081
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن سعيد ابن جُبَير، عن ابن عباس: ﴿يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ﴾ [البقرة: 96] قال: هو قول الأعاجم إذا عَطَسَ أَحدُهم: زِهِ هَزارْ سالْ (4) . رواه قيس بن الرّبيع، عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس، بزيادة ألفاظٍ:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: یَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَۃٍ (البقرۃ: 96) ایک کو تمنا ہے کہ کہیں ہزار برس جیے ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: یہ عجمیوں کا قول ہو گا جبکہ ان میں سے کسی کو چھینک آتی (تو وہ یہی دعا مانگتا کہ کاش اس کی عمر دس ہزار سال ہو جائے)۔ (نوٹ: مشرکین کا ایک گروہ مجوسی ہے آپس میں تحیت و سلام کے موقع پر کہتے ہیں زہ ہزار سال یعنی ہزار برس جیو۔ مطلب یہ ہے کہ مجوسی مشرک ہزار برس جینے کی تمنا رکھتے ہیں، یہودی ان سے بھی بڑھ گئے کہ انہیں حرص و زندگانی سب سے زیادہ ہے۔ (تفسیر خزائن العرفان) ٭٭ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک دوسری سند کے ہمراہ چند الفاظ کے اضافہ کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3081]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3082
أخبرَناه أبو زكريا العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن إسحاق، حدثنا محمد ابن سهل بن عَسكَر، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا قيس بن الرَّبيع، عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ﴾ قال: هم هؤلاء أهلُ الكتاب ﴿وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ﴾ (البقرة: 96] قال: هو قولُ أحدهم لصاحبه هَزارْ سالْ نَيرُوز مِهرجان بخور (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ لَتَجِدَنَّھُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ (البقرۃ: 96) اور بیشک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: (ان سے مراد یہ ہے کہ) تمام اہل کتاب اور مشرکین یہ آرزو رکھتے ہیں کہ کسی طور ان کو ہزار سال تک کی عمر دے دی جائے حالانکہ ہزار سال عمر کا دیا جانا بھی ان کو عذاب سے نہیں بچا سکے گا اور ان میں سے ایک آدمی دوسرے کو یہی دعائیں دیا کرتا تھا کہ تم ہزار سال مھرجان (پارسیوں کی عید کا نام ہے) کے مزے لوٹو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3082]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں