المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. ذِكْرُ وُزَرَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَرْضِ وَمِنَ السَّمَاءِ
سیدنا رسول اللہ ﷺ کے وزراء زمین میں بھی تھے اور آسمان میں بھی
حدیث نمبر: 3083
حدثنا أحمد بن كامل بن خلف القاضي، حدثنا عبد الله بن رَوْح المدائني، حدثنا شَبَابة بن سَوَّار، حدثنا أبو عُتْبة الحمصي، عن عطاء بن عَجْلان، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"وَزِيرايَ من السماء: جبريلُ وميكائيلُ، ومن أهل الأرض: أبو بكرٍ وعمرهُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإنما يُعرَف هذا الحديث من حديث سوَّار بن مُصعَب عن عَطِيَّة العَوْفي عن أبي سعيد، وليس من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3046 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإنما يُعرَف هذا الحديث من حديث سوَّار بن مُصعَب عن عَطِيَّة العَوْفي عن أبي سعيد، وليس من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3046 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے آسمان میں دو وزیر سیدنا جبریل علیہ السلام اور سیدنا میکائیل علیہ السلام ہیں اور زمین میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ جبکہ یہ حدیث سوار بن مصعب سے عطیہ عوفی کے حوالے سے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مشہور ہے۔ تاہم وہ سند اس کتاب کے معیار کی نہیں ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3083]
حدیث نمبر: 3084
حدَّثَناه أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا أبي، حدثنا سوَّار بن مصعب، عن عطيَّة العَوْفي، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ لي وزيرَينِ من أهل السماء ووزيرَينِ من أهل الأرض، فأما وزيرايَ من أهل السماء فجبريلُ وميكائيلُ، وأما وزيرايَ من أهل الأرض فأبو بكرٍ وعمرُ" (1) . ورواه أبو عُبيد القاسم بن سلَّام، عن أبي معاوية، عن الأعمش، عن عطيَّة بلفظ آخر:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے دو وزیر آسمان میں ہیں اور دو وزیر زمین میں ہیں۔ میرے آسمان کے دو وزیر سیدنا جبریل علیہ السلام اور سیدنا میکائیل علیہ السلام ہیں اور زمین میں دو وزیر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ ٭٭ اس حدیث کو ابوعبید قاسم بن سلام نے ابومعاویہ سے عطیہ سے مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3084]
حدیث نمبر: 3085
أخبرَناه الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو عُبيد، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش (2) ، عن عطيَّة، عن أبي سعيد الخُدْري قال: ذَكَرَ رسولُ الله ﷺ صاحبَ الصُّور، فقال:"جَبرَئيلُ عن يمينِه وميكائيلُ عن يسارِه" (3) . قال أبو عبيد: هما مهموزتانِ في الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3048 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3048 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسرافیل علیہ السلام کا ذکر کیا پھر فرمایا: سیدنا جبرئیل علیہ السلام اس کے دائیں اور سیدنا میکائیل علیہ السلام اس کے بائیں جانب ہوں گے۔ ابوعبید کہتے ہیں: حدیث میں یہ دونوں الفاظ مہموزا استعمال ہوئے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3085]
حدیث نمبر: 3086
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا مُحاضِر بن المورِّع، حدثنا الأعمش، عن سعدٍ الطائي، عن عطيَّة ابن سعد، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"جَبرئيلُ عن يمينِه وميكائيلُ عن يسارِه، وهو صاحبُ الصُّور" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3049 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3049 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا جبرئیل علیہ السلام کے دائیں ہیں اور میکائیل علیہ السلام ان کے بائیں ہیں اور وہ (یعنی سیدنا اسرافیل علیہ السلام) صَاحِبَ الصُّور (یعنی وہ صور پھونکنے کے ذمہ دار) ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3086]
حدیث نمبر: 3087
حدثنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن حُصَين بن عبد الرحمن، عن عِمران بن الحارث قال: بَيْنا نحن عند ابن عبَّاس إذ جاءه رجل فقال: من أين جئتَ؟ قال: من العراق، قال: من أيِّهم؟ قال: من الكُوفة، قال: فما الخبرُ؟ قال: تركتُهم وهم يتحدُّثون أنَّ عليًّا خارجٌ عليهم (2) ، فقال: ما تقولُ لا أبا لك؟! لو شَعَرْنا ذلك ما أَنكَحْنا نساءَه، ولا قَسَّمْنا ميراثَه. ثم قال: أنا سأحدِّثُك عن ذلك، إنَّ الشياطين كانوا يَستَرِقُون السمعَ، وكان أحدُهم يجيءُ بكلمةِ حقٍّ قد سمعها الناسُ، فيكذبُ معها سبعين كَذبةً، فتُشرَبُها قلوبَ الناس، فأَطلَعَ اللهُ على ذلك سليمانَ بن داود، فأخذها فدَفَنها تحت الكرسي، فلما مات سليمانُ قام شيطانٌ بالطريق فقال: ألا أدلُّكم على كَنْز (3) سليمان الذي لا كنزَ لأحدٍ مثلُه، كَنزِه المُمَنَّعِ؟ قالوا: نعم، فأخرجوه فإذا هو سحرٌ، فتناسَخَتْها الأُمم، فبقاياها ممّا تَحدَّثُ بها أهلُ العراق، فأنزل الله عُذْرَ سليمان فقال: ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا﴾ الآيةَ [البقرة: 102] (4) .
هذا حديث....... (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3050 - صحيح..............
هذا حديث....... (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3050 - صحيح..............
سیدنا عمران بن حارث رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ ہم سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا۔ آپ نے پوچھا: تو کہاں سے آیا ہے؟ اس نے جواباً کہا: عراق سے۔ آپ نے پوچھا: عراق کے کس شہر سے؟ اس نے کہا: کوفہ سے۔ آپ نے کہا: وہاں کی (تازہ) خبر کیا ہے؟ اس نے کہا: جب میں وہاں سے آیا تو اس وقت وہاں یہ چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بغاوت کر دی ہے، آپ نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ تیرا باپ نہ رہے۔ اگر ایسی بات ہوتی تو ہم اس کی عورتوں سے نکاح نہ کرتے اور اس کی وراثت تقسیم نہ کرتے۔ پھر آپ نے فرمایا: میں اس کے متعلق تمہیں ایک بات بتاتا ہوں۔ شیاطین چوری چھپے ملائکہ کی باتیں سنا کرتے تھے پھر ان میں سے ایک کوئی سچی بات بول دیتا جو لوگوں نے سن رکھی ہوتی پھر وہ اس میں ستر جھوٹ شامل کر کے لوگوں کے دلوں میں ڈال دیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام کو اس بات کی اطلاع دی۔ انہوں نے (یہ تمام منتر وغیرہ) پکڑ کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کر دیئے۔ جب سلیمان کا انتقال ہو گیا تو شیطان ایک راستے میں کھڑا ہو کر کہنے لگا: کیا میں تمہیں سیدنا سلیمان علیہ السلام کے ایک خزانے کی راہنمائی نہ کروں کہ اس جیسا کوئی خزانہ نہیں ہے اور اس کو آج تک روک کر رکھا گیا ہے لوگوں نے کہا: ہاں (تب شیطان کی راہنمائی سے) لوگوں نے اس کو نکال لیا تو وہ جادو تھا۔ تو لوگ ایک دوسرے کو وہ دیتے رہے اور اہل عراق جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ اسی جادو کے اثر کی باقیات ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان رضی اللہ عنہما کا عذر نازل فرما دیا۔ ارشاد فرمایا:” وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ وَ مَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَٰلکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ “ (البقرۃ: 102) ” اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنت سلیمان کے زمانہ میں اور سلیمان نے کفر نہ کیا ہاں شیطان کافر ہوئے لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں “۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3087]