🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. ذكر وزرائه صلى الله عليه وآله وسلم من الأرض ومن السماء
سیدنا رسول اللہ ﷺ کے وزراء زمین میں بھی تھے اور آسمان میں بھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3087
حدثنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن حُصَين بن عبد الرحمن، عن عِمران بن الحارث قال: بَيْنا نحن عند ابن عبَّاس إذ جاءه رجل فقال: من أين جئتَ؟ قال: من العراق، قال: من أيِّهم؟ قال: من الكُوفة، قال: فما الخبرُ؟ قال: تركتُهم وهم يتحدُّثون أنَّ عليًّا خارجٌ عليهم (2) ، فقال: ما تقولُ لا أبا لك؟! لو شَعَرْنا ذلك ما أَنكَحْنا نساءَه، ولا قَسَّمْنا ميراثَه. ثم قال: أنا سأحدِّثُك عن ذلك، إنَّ الشياطين كانوا يَستَرِقُون السمعَ، وكان أحدُهم يجيءُ بكلمةِ حقٍّ قد سمعها الناسُ، فيكذبُ معها سبعين كَذبةً، فتُشرَبُها قلوبَ الناس، فأَطلَعَ اللهُ على ذلك سليمانَ بن داود، فأخذها فدَفَنها تحت الكرسي، فلما مات سليمانُ قام شيطانٌ بالطريق فقال: ألا أدلُّكم على كَنْز (3) سليمان الذي لا كنزَ لأحدٍ مثلُه، كَنزِه المُمَنَّعِ؟ قالوا: نعم، فأخرجوه فإذا هو سحرٌ، فتناسَخَتْها الأُمم، فبقاياها ممّا تَحدَّثُ بها أهلُ العراق، فأنزل الله عُذْرَ سليمان فقال: ﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا﴾ الآيةَ [البقرة: 102] (4) .
هذا حديث....... (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3050 - صحيح..............
سیدنا عمران بن حارث رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ ہم سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا۔ آپ نے پوچھا: تو کہاں سے آیا ہے؟ اس نے جواباً کہا: عراق سے۔ آپ نے پوچھا: عراق کے کس شہر سے؟ اس نے کہا: کوفہ سے۔ آپ نے کہا: وہاں کی (تازہ) خبر کیا ہے؟ اس نے کہا: جب میں وہاں سے آیا تو اس وقت وہاں یہ چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بغاوت کر دی ہے، آپ نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ تیرا باپ نہ رہے۔ اگر ایسی بات ہوتی تو ہم اس کی عورتوں سے نکاح نہ کرتے اور اس کی وراثت تقسیم نہ کرتے۔ پھر آپ نے فرمایا: میں اس کے متعلق تمہیں ایک بات بتاتا ہوں۔ شیاطین چوری چھپے ملائکہ کی باتیں سنا کرتے تھے پھر ان میں سے ایک کوئی سچی بات بول دیتا جو لوگوں نے سن رکھی ہوتی پھر وہ اس میں ستر جھوٹ شامل کر کے لوگوں کے دلوں میں ڈال دیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام کو اس بات کی اطلاع دی۔ انہوں نے (یہ تمام منتر وغیرہ) پکڑ کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کر دیئے۔ جب سلیمان کا انتقال ہو گیا تو شیطان ایک راستے میں کھڑا ہو کر کہنے لگا: کیا میں تمہیں سیدنا سلیمان علیہ السلام کے ایک خزانے کی راہنمائی نہ کروں کہ اس جیسا کوئی خزانہ نہیں ہے اور اس کو آج تک روک کر رکھا گیا ہے لوگوں نے کہا: ہاں (تب شیطان کی راہنمائی سے) لوگوں نے اس کو نکال لیا تو وہ جادو تھا۔ تو لوگ ایک دوسرے کو وہ دیتے رہے اور اہل عراق جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ اسی جادو کے اثر کی باقیات ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان رضی اللہ عنہما کا عذر نازل فرما دیا۔ ارشاد فرمایا: وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْکِ سُلَیْمٰنَ وَ مَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَٰلکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ (البقرۃ: 102) اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنت سلیمان کے زمانہ میں اور سلیمان نے کفر نہ کیا ہاں شیطان کافر ہوئے لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3087]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3087 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد ’ابن راہویہ‘ ہیں، اور جریر سے مراد ’ابن عبدالحمید‘ ہیں۔
وأخرجه الواحدي في "أسباب النزول" (44) من طريق أبي يزيد الخالدي، عن إسحاق بن إبراهيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے واحدی نے "أسباب النزول" (44) میں ابو یزید الخالدی کے طریق سے، انہوں نے اسحاق بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 1/ 449 - 450، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 22/ 255 من طريقين عن جرير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی "تفسیر" 1/ 449 - 450 میں، اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 22/ 255 میں جریر سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه سعيد بن منصور في التفسير من "سننه" (207)، وحرب بن إسماعيل في "مسائله" 3/ 1181، وابن عساكر 22/ 255 و 42/ 587 و 589 من طرق عن حصين بن عبد الرحمن، به. وسمَّى سفيان بن عيينة شيخ حصين عند ابن عساكر محمدَ بنَ الحارث، وهو وهمٌ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے سعید بن منصور نے اپنی "سنن" کی تفسیر (207) میں، حرب بن اسماعیل نے اپنی "مسائل" 3/ 1181 میں، اور ابن عساکر نے 22/ 255، 42/ 587 اور 589 میں حصین بن عبدالرحمن کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور سفیان بن عیینہ نے ابن عساکر کے ہاں حصین کے شیخ کا نام ’محمد بن الحارث‘ ذکر کیا ہے، جو کہ ایک وہم ہے۔
.
📝 نوٹ / توضیح: (خالی یا غیر متعلقہ)
وسيأتي أوله بنحوه عن الحسن بن علي بن أبي طالب برقم (4751).
🧾 تفصیلِ روایت: اور اس کا ابتدائی حصہ حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح نمبر (4751) پر آگے آئے گا۔
(1) هنا بياض في الأصول ذهب منه أيضًا أول إسناد المصنف في الحديث التالي.
📝 نوٹ / توضیح: اصل نسخوں میں یہاں بیاض (خالی جگہ) ہے جس کی وجہ سے اگلی حدیث میں مصنف کی سند کا ابتدائی حصہ بھی غائب ہو گیا ہے۔