المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. قصة الزهرة وكونها كوكبا
زہرہ کے ستارہ بننے کا واقعہ
حدیث نمبر: 3088
[أخبرنا أبو الحسن علي بن] محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهري، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن عُمير بن سعيد النَّخَعي قال: سمعت عليًّا يُخبِر القومَ: أَنَّ هذه الزُّهَرةَ تسمِّيها العربُ الزُّهَرةَ، وتسمِّيها العجمُ أناهيد، فكان المَلَكانِ يَحكُمان بين الناس، فأتتهما [امرأة] (2) فأرادها كلُّ واحد منهما عن غير علم صاحبه، فقال أحدهما لصاحبه: يا أخي، إنَّ في نفسي بعضَ الأمر أريد أن أذكُرَه لك، قال: اذكُرْه يا أخي، لعلَّ الذي في نفسي مثلُ الذي في نفسك، فاتَّفَقا على أمرٍ في ذلك، فقالت لهما المرأة: ألا تُخبِراني بما تَصعَدانِ السماءَ، وبما تَهبِطان إلى الأرض؟ فقالا: باسم الله الأعظم، به نَهبِطُ وبه نَصعد، فقالت: ما أنا بمُواتِيكما الذي تريدان حتى تُعلِّمانِيهِ، فقال أحدهما لصاحبه علِّمها إياه، فقال: كيف لنا بشدَّة عذاب الله؟ قال الآخر: إنَّا نرجو سَعَةَ رحمةِ الله، فعلَّمَها إياه، فتكلَّمت به، فطارت إلى السماء، ففَزِعَ مَلَكٌ في السماء لصعودها فطأطأَ رأسَه، فلم يَجلِس بعدُ، ومَسَخَها الله فكانت كوكبًا (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3051 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3051 - صحيح
سیدنا عمیر بن سعید نخعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنا ہے، وہ قوم کو بتا رہے تھے کہ یہ ستارہ جس کو اہل عرب زہرہ اور عجمی لوگ اس کو ” اناھید “ کہتے ہیں (اس کا قصہ یہ ہے کہ) دو فرشتے لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے۔ ان کے پاس ایک خاتون آئی دونوں نے ایک دوسرے سے پوشیدہ اس کا ارادہ کر لیا، پھر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: میرے دل میں ایک بات ہے جو میں آپ کے ساتھ کرنا چاہ رہا ہوں، اس نے کہا، جی میرے بھائی! بولو! ہو سکتا ہے میں بھی وہی بات تیرے ساتھ کرنا چاہ رہا ہوں۔ پھر وہ دونوں ایک معاملے پر متفق ہو گئے (اور دونوں نے اس عورت کا ارادہ کر لیا) عورت نے ان سے کہا: کیا تم مجھے وہ عمل نہیں بتاؤ گے جس کے ذریعے تم آسمان پر جاتے اور واپس زمین پر آتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کے ساتھ آسمان پر جاتے ہیں اور اسی کے ساتھ ہم زمین پر آتے ہیں۔ اس نے کہا: تم دونوں جو ارادہ رکھتے ہو میں اس وقت تک اس کو عملی جامہ نہیں پہناؤں گی جب تک تم مجھے وہ (اسمِ اعظم) سکھا نہیں دیتے۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: تو اس کو اسمِ اعظم سکھا دے۔ اس نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب کی شدت برداشت نہیں کر پائیں گے۔ دوسرے نے کہا: مجھے اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت سے بہت امید ہے۔ چنانچہ اس نے اس عورت کو اسمِ اعظم سکھا دیا۔ اس نے وہ اسم اعظم پڑھا اور آسمان کی طرف اُڑ گئی۔ اس کے آسمان کی طرف چڑھنے پر ایک فرشتہ زور سے چلایا اس کا سر جھک گیا، پھر اس کے بعد وہ بیٹھا نہیں اور اس عورت کو اللہ تعالیٰ نے مسخ فرما دیا تو وہ ستارہ یہی تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3088]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3088 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) لفظ "امرأة" من المطبوع وليس في نسخنا الخطية.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "امرأة" مطبوعہ نسخے سے لیا گیا ہے اور یہ ہمارے قلمی نسخوں میں موجود نہیں ہے۔
(3) رجاله ثقات، وهو من الإسرائيليات.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن یہ اسرائیلیات میں سے ہے۔
وأخرجه أبو الشيخ في "العظمة" (698) من طريق عبد الله بن عمران، عن يعلى بن عبيد الطنافسي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو الشیخ نے "العظمة" (698) میں عبداللہ بن عمران کے طریق سے، انہوں نے یعلیٰ بن عبید الطنافسی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه إسحاق بن راهويه في "مسنده" - كما في "المطالب العالية" (3522) - وابن أبي الدنيا في "العقوبات" (223) من طريق جرير بن عبد الحميد، عن إسماعيل بن أبي خالد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسحاق بن راہویہ نے اپنی "مسند" میں - جیسا کہ "المطالب العالية" (3522) میں ہے - اور ابن ابی الدنیا نے "العقوبات" (223) میں جریر بن عبدالحمید کے طریق سے، انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا الطبري في "تفسيره" 1/ 456 من طريق خالد الحذّاء، عن عمير بن سعيد، به وسمَّى الملكين هاروت وماروت.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی "تفسیر" 1/ 456 میں خالد الحذاء کے طریق سے، انہوں نے عمیر بن سعید سے مختصراً تخریج کیا ہے، اور اس میں دونوں فرشتوں کا نام ہاروت اور ماروت ذکر کیا ہے۔