🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. كانت الزهرة امرأة
زہرہ ایک عورت تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3089
فحدَّثَنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله التميمي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا سليمان التَّيمي، عن أبي عثمان، عن ابن عبَّاس قال: كانت الزُّهَرَةُ امرأةً في قومها يقال لها: بيدخت (1) . قال الحاكم: الإسنادان صحيحان على شرط الشيخين، والغرضُ في إخراج الحديثين ذكرُ هاروتَ وماروتَ وما سَبَقَ من قضاء الله فيهما وللزُّهَرة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3052 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: زہرہ اپنی قوم میں ایک عورت ہوا کرتی تھی اس کو بیدحہ کہا جاتا تھا۔ ٭٭ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں مذکورہ دونوں سندیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہیں اور دونوں حدیثوں کو یہاں درج کرنے کا مقصد ہاروت اور ماروت کا قصہ اور ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا ذکر کرنا ہے اور زہرہ کا ذکر کرنا مقصود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3089]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3089 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات. سليمان بن التيمي: هو ابن طَرْخان، وأبو عثمان: هو عبد الرحمن بن ملٍّ النَّهدي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سلیمان بن التیمی سے مراد ’ابن طرخان‘ ہیں، اور ابو عثمان سے مراد ’عبدالرحمن بن مل النہدی‘ ہیں۔
وأخرجه ابن السُّني في "اليوم والليلة" (655) من طريق عيسى بن يونس، عن سليمان التيمي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن السنی نے "اليوم والليلة" (655) میں عیسیٰ بن یونس کے طریق سے، انہوں نے سلیمان التیمی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
(2) قيل: إنَّ هذه الأخبار من أخبار بني إسرائيل، وهو من خُرافاتهم التي لا يُعوَّل عليها، ولم يثبت فيها شيءٌ مرفوع عن النبي ﷺ. وانظر التعليق على حديث ابن عمر في "مسند أحمد" 10/ (6178)، وانظر في قصة هاروت وماروت أيضًا ما سيأتي برقم (3696) و (9011).
📝 نوٹ / توضیح: کہا گیا ہے کہ یہ خبریں بنی اسرائیل کی خبروں (اسرائیلیات) میں سے ہیں، اور یہ ان کی خرافات ہیں جن پر کوئی اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اور اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ "مسند احمد" 10/ (6178) میں ابن عمر کی حدیث پر تعلیق دیکھیں، اور ہاروت و ماروت کے قصے میں وہ روایات بھی دیکھیں جو آگے نمبر (3696) اور (9011) پر آئیں گی۔