🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. صل حيث ما توجهت بك راحلتك فى التطوع
نفل نماز میں جہاں تمہاری سواری رخ کرے وہیں نماز پڑھ لو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3090
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب حدثنا أبو البَختَري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو أسامة، عن عبد الملك بن أبي سليمان، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عمر قال: أُنزلت حيثُما ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [البقرة: 115] : أن تُصلِّيَ حيثُما توجَّهَت بك راحلتُك في التطوُّع (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب یہ آیت: فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ (البقرۃ: 115) تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے ۔ نازل ہوئی تو نفلی نماز سواری پر بیٹھے جدھر سواری کا رُخ ہو ادھر ہی نماز پڑھنا حلال ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3090]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3090 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو اسامہ سے مراد ’حماد بن اسامہ‘ ہیں۔
وأخرجه بنحوه أحمد 8/ (4714) و 9/ (5001)، ومسلم (700) (33) و (34)، والترمذي (2958)، والنسائي (10930) من طرق عن عبد الملك بن أبي سليمان بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل احمد نے 8/ (4714) اور 9/ (5001) میں، مسلم نے (700) (33) اور (34) میں، ترمذی نے (2958) میں، اور نسائی نے (10930) میں عبدالملک بن ابی سلیمان کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے؛ 📌 اہم نکتہ: چنانچہ حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔