🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. صل حيث ما توجهت بك راحلتك فى التطوع
نفل نماز میں جہاں تمہاری سواری رخ کرے وہیں نماز پڑھ لو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3092
[حدَّثَنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا مَعمَر، عن عبد الله] (2) بن طاووس، عن أبيه، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ﴾ [البقرة: 124] قال: ابتلاه بالطَّهارة: خمسٌ في الرأس، وخمسٌ في الجسد؛ في الرأس: قصُّ الشارب، والمضمضةُ والاستنشاقُ، والسِّواكُ، وفَرْقُ الرأس، وفي الجسد: تقليمُ الأظفار، وحَلْقُ العانةِ، والخِتانُ، ونَتْفُ الإبْط، وغسلُ مكانِ الغائط والبول بالماء (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3055 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَ اِذِ ابْتَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ (البقرۃ: 124) اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں میں آزمایا ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو سر کی پانچ اور جسم کی پانچ طہارتوں میں آزمایا۔ سر کی طہارتیں یہ تھیں: (1) مونچھیں کاٹنا۔ (2) کلی کرنا۔ (3) ناک میں پانی چڑھانا۔ (4) مسواک کرنا۔ (5) سر میں مانگ نکالنا۔ اور جسم کی طہارتیں یہ تھیں: (1) ناخن کاٹنا۔ (2) موئے زیرناف مونڈنا۔ (3) ختنہ کرنا۔ (4) بغلوں کے بال نوچنا۔ (5) پیشاب اور پاخانہ کے مقام کو پانی کے ساتھ دھونا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3092]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3092 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) مكان ما بين المعقوفين بياض في النسخ الخطية، واستدركناه من "السنن الكبرى" للبيهقي 1/ 149، حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ میں موجود جگہ پر قلمی نسخوں میں بیاض (خالی جگہ) ہے، جسے ہم نے بیہقی کی "السنن الکبریٰ" 1/ 149 سے پورا (استدراک) کیا ہے، جہاں انہوں نے اسے مصنف (حاکم) سے ان کی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وهو في "تفسير عبد الرزاق" 1/ 57، ومن طريقه أخرجه الطبري في "تفسيره" 1/ 524، وكذا ابن أبي حاتم 1/ 219.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "تفسیر عبدالرزاق" 1/ 57 میں موجود ہے، اور انہی کے طریق سے اسے طبری نے اپنی "تفسیر" 1/ 524 میں، اور اسی طرح ابن ابی حاتم نے 1/ 219 میں تخریج کیا ہے۔
وروي عن ابن عبَّاس في تفسير هذه الآية أقوال أخرى كما سيأتي عند المصنف برقم (3795) و (4071) و (4094).
🧾 تفصیلِ روایت: اور اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دیگر اقوال بھی مروی ہیں، جیسا کہ مصنف کے ہاں آگے نمبر (3795)، (4071) اور (4094) پر آئیں گے۔