🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. الطواف بين الصفا والمروة من سنة أم إسماعيل عليهما السلام
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کی سنت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3110
أخبرنا أبو أحمد محمد بن أحمد الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنَّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن أبي مالك، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾، قال: كانت الشياطين في الجاهلية تَعزِفُ الليلَ أجمَعَ بين الصفا والمروة، وكانت فيهما آلهةٌ لهم أصنامٌ، فلما جاء الإسلام قال المسلمون: يا رسول الله، لا نطوفُ بين الصفا والمروة، فإنه شيء كنا نصنعُه في الجاهلية؛ فأنزل الله: ﴿فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ [البقرة: 158] ، يقول: ليس عليه إثمٌ ولكن له أَجْر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3073 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ (البقرۃ: 158) بے شک صفا اور مروۃ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں شیاطین صفا اور مروہ کے درمیان رات کے وقع جمع ہو کر گانے گایا کرتے تھے اور ان دونوں (صفا اور مروہ) کے درمیان انہوں نے اپنے بت رکھے ہوئے تھے، جب اسلام آیا تو مسلمانوں نے کہا: ہم صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کریں گے کیونکہ (یہاں پر) ہم زمانہ جاہلیت میں (ناپسندیدہ) عمل کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفاَا بِھِمَا (البقرۃ: 158) تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ صفا مروہ کی سعی کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ اس کے لئے تو ثواب ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3110]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3110 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن. السدي: هو إسماعيل بن عبد الرحمن، وأبو مالك: اسمه غزوان الغفاري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سدی سے مراد ’اسماعیل بن عبدالرحمن‘ ہیں، اور ابو مالک کا نام ’غزوان الغفاری‘ ہے۔
وأخرجه بنحوه الطبري في "تفسيره" 2/ 46 - 47 عن موسى بن هارون الهمداني، عن عمرو بن طلحة القنّاد بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل طبری نے اپنی "تفسیر" 2/ 46 - 47 میں موسیٰ بن ہارون الہمدانی سے، انہوں نے عمرو بن طلحہ القناد سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي داود في "المصاحف" (318) من طريق عامر بن الفرات، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 1/ 267 من طريق عمرو بن محمد العنقزي، كلاهما عن أسباط بن نصر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی داود نے "المصاحف" (318) میں عامر بن الفرات کے طریق سے، اور ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 267 میں عمرو بن محمد العنقزی کے طریق سے، دونوں نے اسباط بن نصر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
قوله: "تعزف" قال ابن الأثير في "النهاية": عزيف الجن: جَرْس، أصواتها، وقيل: هو صوت يُسمَع كالطبل بالليل، وقيل: إنه صوت الرياح في الجو فتتوهمه أهل البادية صوتُ الجن، وعزيف الرياح: ما يُسمع من دويِّها.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "تعزف" کے بارے میں ابن اثیر نے "النهاية" میں کہا: ’عزيف الجن‘ سے مراد ان کی آوازیں یا گنگناہٹ (جرس) ہے، اور کہا گیا ہے کہ یہ رات کو ڈھول جیسی سنائی دینے والی آواز ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فضا میں ہواؤں کی آواز ہوتی ہے جسے دیہاتی لوگ جنوں کی آواز سمجھ لیتے ہیں، اور ’عزیف الریاح‘ وہ گونج ہے جو ہوا سے سنی جاتی ہے۔