🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. الطواف بين الصفا والمروة من سنة أم إسماعيل عليهما السلام
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کی سنت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3111
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا أبو أسامة، حدثنا طلحة بن عمرو، أخبرني عطاء بن أبي رَبَاح، عن أبي هريرة أنه قال: لولا آيةٌ من كتاب الله ما أخبرتُ أحدًا شيئًا، قيل: وما هي يا أبا هريرة؟ قال: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ (159) إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا﴾ [البقرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3074 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر ایک آیت نہ ہوتی تو میں کسی کو کچھ نہ بتاتا۔ آپ سے پوچھا گیا: اے ابوہریرہ وہ آیت کونسی آیت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ آیت ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْھُدٰی مِنْم بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ اُولٰٓئِکَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہُ وَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْنَ اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا (البقرۃ: 159-160) بیشک وہ جو ہماری اُتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں بعد اس کے کہ لوگوں کے لیے ہم اسے کتاب میں واضح فرما چکے ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنت مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں ۔۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3111]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3111 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف جدًا من أجل طلحة بن عمرو الحضرمي فإنه متروك، إلّا أنه لم ينفرد به، فقد صحَّ المتن من غير طريقه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند طلحہ بن عمرو الحضرمی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے کیونکہ وہ ’متروک‘ ہیں، 🧩 متابعات و شواہد: تاہم وہ اس میں منفرد نہیں ہیں، کیونکہ متن ان کے طریق کے علاوہ سے صحیح ثابت ہے۔
فقد أخرجه زهير بن حرب أبو خيثمة في كتاب "العلم" (107)، وابنه في السفر الثالث من "تاريخه" (592)، والرامهرمزي في "المحدث الفاصل" (586) من طريق ابن جريج، عن عطاء ابن أبي رباح، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے زہیر بن حرب ابو خیثمہ نے کتاب "العلم" (107) میں، اور ان کے بیٹے نے اپنی "تاریخ" کے تیسرے سفر (592) میں، اور رامہرمزی نے "المحدث الفاصل" (586) میں ابن جریج کے طریق سے، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا أحمد 13/ (7705)، والبخاري (118)، وابن ماجه (262)، والنسائي (5836) من طريق الأعرج، ومسلم (2493)، وابن حبان (7153) من طريق سعيد بن المسيب، كلاهما عن أبي هريرة. وانظر ما سلف برقم (371).
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 13/ (7705)، بخاری نے (118)، ابن ماجہ نے (262)، اور نسائی نے (5836) میں اعرج کے طریق سے؛ اور مسلم نے (2493) اور ابن حبان نے (7153) میں سعید بن المسیب کے طریق سے؛ یہ دونوں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور دیکھیے جو پیچھے نمبر (371) پر گزر چکا ہے۔
(1) قد أخرجاه لكن من غير طريق عطاء كما سبق.
📝 نوٹ / توضیح: اسے شیخین (بخاری و مسلم) نے نکالا ہے لیکن عطاء کے طریق کے علاوہ سے، جیسا کہ گزر چکا۔