المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
103. شرح معنى آية : ( وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ) الآية
آیت“اور جب تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد نکالی”کی تشریح
حدیث نمبر: 3294
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد (2) بن حازم الغِفَاري، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا أبو جعفر عيسى بن عبد الله بن ماهانَ، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، عن أُبيِّ بن كعب في قوله ﷿: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (3) وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ﴾ إِلى قوله: ﴿أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾ [الأعراف: 172 - 173] ، قال: جَمَعَهم له يومئذٍ جميعًا ما هو كائنٌ إلى يوم القيامة فجعلهم أرواحًا، ثم صوَّرهم واستَنطَقَهم فتكلَّموا، وأَخذ عليهم العهدَ والميثاقَ ﴿وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (172) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾، قال: فإني أُشهِدُ عليكم السماواتِ السَّبعَ والأَرَضينَ السَّبعَ، وأُشهِدُ عليكم أباكم آدمَ، أن تقولوا يومَ القيامة: لم نَعلَمْ، أو تقولوا: إنَّا كنا عن هذا غافلين، فلا تُشرِكوا بي شيئًا، فإني أُرسل إليكم رُسُلي يُذكِّرونكم عَهْدي ومِيثاقي، وأُنزل عليكم كُتُبي، فقالوا: نَشهَدُ أنك ربُّنا وإلَهُنا، لا ربَّ لنا غيرُك، ولا إلهَ لنا غيرُك (1) . ورُفِعَ لهم أبوهم آدمُ، فنَظَرَ إليهم فرأى فيهم الغنيَّ والفقيرَ وحَسَنَ الصورةِ وغيرَ ذلك، فقال: ربِّ لو سوَّيتَ بين عبادك، فقال: إني أحبُّ أن أُشكَرَ، ورأى فيهم الأنبياءَ مثلَ السُّرُج، وخُصُّوا بميثاقٍ آخرَ بالرِّسالة والنُّبوة، فذلك قوله ﷿: ﴿وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ﴾ الآية [الأحزاب: 7] ، وهو قولُه: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ﴾ [الروم:30] ، وذلك قولُه: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى﴾ [النجم: 56] ، وقولُه: ﴿وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ﴾ [الأعراف: 102] ، وهو قولُه: ﴿ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ﴾ [يونس: 74] ، كان في علمه يومَ أقرُّوا بما أَقرُّوا به مَن يُكذِّبُ به ومن يُصدِّقُ به. فكان رُوحُ عيسى من تلك الأرواح التي أُخذ عليها الميثاقُ في زمن آدم، فأُرسِلَ ذلك الرُّوحُ إلى مريم حين ﴿انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا (16) فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ إلى قوله: ﴿مَقْضِيًّا (21) فَحَمَلَتْهُ﴾ [مريم: 16 - 21] ، قال: حَمَلَت الذي خاطَبَها وهو روحُ عيسى ﵇. قال أبو جعفر: فحدَّثني الربيعُ بن أنس، عن أبي العاليَة، عن أُبيِّ بن كعب قال: دَخَلَ مِن فيها (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3255 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3255 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ ٰادَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَ اَشْہَدَھُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ (الاعراف: 172) ” اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود پر گواہ کیا “۔، اَفَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ (الاعراف: 173) ” کیا تو ہمیں اس پر ہلاک کرے گا جو اہل باطل نے کیا۔“ تک۔ کے متعلق فرماتے ہیں: اس دن اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کو جمع کر لیا اور ان کو روحیں بنا دیا۔ پھر ان کی شکلیں بنائیں اور ان کو بولنے کی طاقت دی اور وہ بولے: اللہ تعالیٰ نے ان سے پکا وعدہ لیا اور ان کو خود انہیں پر گواہ بنایا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں، ہم نے گواہی دی تاکہ کہیں وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہم اس سے غافل تھے یا یہ کہیں: شرک تو ہم سے پہلے ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا، ہم تو ان کے بعد بچے ہوئے ہیں، کیا تو ہمیں ان کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کرے گا جو اہل باطل نے کیے تھے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو میں تم پر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو گواہ بناتا ہوں اور تم پر تمہارے جدامجد سیدنا آدم علیہ السلام کو گواہ بناتا ہوں کہ کہیں تم قیامت میں یہ نہ کہو کہ ہمیں علم نہ تھا یا ہم اس سے غافل تھے۔ لہٰذا میرے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ بے شک میں تمہاری طرف اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں میرا وعدہ اور عہد یاد دلاتے رہیں گے اور میں تم پر اپنی کتابیں اُتاروں گا وہ بولے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور معبود ہے اور تیرے سوا ہمارا کوئی رب نہیں اور کوئی معبود نہیں ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام کو ان سب پر بلند کیا اور انہوں نے ان کی طرف دیکھا تو ان میں مالدار بھی دیکھے اور محتاج بھی، خوبصورت بھی دیکھے اور دوسرے بھی۔ یہ دیکھ کر سیدنا آدم علیہ السلام بولے: یا اللہ تو نے ان سب کو ایک جیسا کیوں نہیں بنایا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا شکر ادا کیا جائے، آپ نے ان میں انبیاء کرام کو چراغوں کی طرح (چمکتے) دیکھا اور دوسرا میثاق خاص طور پر صرف نبیوں اور رسولوں سے ہی لیا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں بیان فرمایا ہے: وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیثَاقَھُمْ وَ مِنْکَ وَمِنْ نُّوْحٍ (الاحزاب: 7) ” اور محبوب یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے “۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ (الروم: 30) ” تو اپنا منہ سیدھا کرو اللہ کی اطاعت کے لیے ایک اکیلے اسی کے ہو کر اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا “۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ھٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰی (النجم: 56) ” یہ ایک ڈر سنانے والے ہیں اگلے ڈرانے والوں کی طرح “۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَمَا وَجَدْنَا لِاَکْثَرِھِمْ مِّنْ عَھْدٍ وَ اِنْ وَجَدْنَآ اَکْثَرَھُمْ لَفٰسِقِیْنَ (الاعراف: 102) ” اور ان میں اکثر کو ہم نے قول کا سچا نہ پایا اور ضرور ان میں اکثر کو بے حکم ہی پایا “۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْم بَعْدِہٖ رُسُلًا اِلٰی قَوْمِھِمْ فَجَآئُوْھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ (یونس: 73) ” پھر اس کے بعد اور رسول ہم نے ان کی قوموں کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس روشن دلیلیں لائے تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جسے پہلے جھٹلا چکے تھے “۔ تو اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ وہ کس بات کا اقرار کریں گے؟ کون اسے جھٹلائے گا؟ اور کون اس کی تصدیق کرے گا؟ تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنی ارواح میں شامل ہیں۔ آدم علیہ السلام کے زمانے میں جن سے عہد لیا گیا تھا پھر اس روح کو سیدنا مریم رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا۔ جب وہ: (اِذِ انْتَبَذَت مِنْ اَھْلِھَا مَکَانًا شَرْقِیًّا فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِھِمْ حِجَابًا فَاَرْسَلْنَآ اِلَیْھَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا سَوِیًّا قَالَتْ اِنِّیْٓ اَعُوذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا) (مریم: 16-21) ” جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی تو ان سے ادھر ایک پردہ کر لیا تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کی صورت میں ظاہر ہوا (بولی: میں تجھ سے رب کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تجھے خدا کا ڈر ہے، بولا: میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔ بولی: میرے لڑکا کہاں سے ہو گا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا نہ میں بدکار ہوں، کہا: یونہی ہے۔ تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور اس لیے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور کام ٹھہر چکا ہے “۔ پھر وہ حاملہ ہو گئیں اور آپ اس سے حاملہ ہوئیں جو آپ سے مخاطب تھا اور وہ عیسیٰ روح اللہ تھے۔ ابوجعفر کہتے ہیں: ربیع بن انس، ابوالعالیہ کے واسطے سے ابی بن کعب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عیسیٰ کی روح سیدنا مریم کے منہ سے داخل ہوئی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3294]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3294 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ز) و (ص) و (ع): حدثنا علي، وهو تحريف، والتصويب من (ب).
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں "حدثنا علي" ہے جو کہ تحریف ہے، اور درستی نسخہ (ب) سے کی گئی ہے۔
(3) هذه قراءة نافع وأبي عمرو وابن عامر من السبعة، وقرأ الباقون: (ذريَّتَهم) بالإفراد. انظر "السبعة" لابن مجاهد ص 298.
📝 نوٹ / توضیح: یہ قراءِ سبعہ (سات قاریوں) میں سے نافع، ابوعمرو اور ابن عامر کی قرات ہے، جبکہ باقیوں نے اسے (ذريَّتَهم) صیغہ واحد کے ساتھ پڑھا ہے۔ دیکھئے ابن مجاہد کی "السبعہ" ص 298۔
(1) قوله: "ولا إله لنا غيرك" سقط من (ز) و (ص) و (ع)، وهو ثابت في (ب) وفي "القضاء والقدر" للبيهقي (66) حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه.
📝 نوٹ / توضیح: قول "ولا إله لنا غيرك" نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) سے ساقط ہو گیا ہے، جبکہ یہ نسخہ (ب) اور بیہقی کی "القضاء والقدر" (66) میں موجود ہے، جہاں انہوں نے اسے مصنف (حاکم) سے ان کی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(1) إسناده حسن من أجل أبي جعفر -وهو الرازي- وقد توبع، تابعه عليه بطوله سليمان التيمي عن الربيع بن أنس عند الفريابي في "القدر" (53)، وإسناده قوي، فإنَّ الربيع صدوق لا بأس به.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابوجعفر (الرازی) کی وجہ سے حسن ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: سلیمان تیمی نے ربیع بن انس سے روایت کرنے میں ان کی مکمل متابعت کی ہے جو فریابی کی "القدر" (53) میں موجود ہے، اور اس کی سند قوی ہے، کیونکہ ربیع صدوق ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "مسند أبيه" 35/ (21232) عن محمد بن يعقوب الربالي، عن المعتمر بن سليمان، عن أبيه، عن الربيع بن أنس، به. والربالي مستور كما قال الهيثمي في "مجمع الزوائد" 7/ 25، لكن تابعه يحيى بن حبيب بن عربي عند الفريابي في "القدر" وهو ثقة. وتضعيف هذا الأثر عن أبي بن كعب في "المسند" بتحقيقنا لا يستقيم مع المتابعة المذكورة.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے عبداللہ بن احمد نے "مسندِ احمد" کے زوائد (35/ 21232) میں محمد بن یعقوب الربالی سے، انہوں نے معتمر بن سلیمان سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ربیع بن انس سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راوی) الربالی مستور ہے جیسا کہ ہیثمی نے "مجمع الزوائد" (7/ 25) میں کہا ہے، 🧩 متابعات و شواہد: لیکن یحییٰ بن حبیب بن عربی نے فریابی کی "القدر" میں ان کی متابعت کی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ لہٰذا "مسند" کی تحقیق میں حضرت ابی بن کعب کے اس اثر کو ضعیف قرار دینا اس مذکورہ متابعت کی موجودگی میں درست نہیں بیٹھتا۔
وآخر الخبر سيأتي مكررًا عند المصنف بإسناده هنا برقم (3452).
📖 حوالہ / مصدر: اور اس خبر کا آخری حصہ مصنف کے ہاں اسی سند کے ساتھ آگے نمبر (3452) پر مکرر آئے گا۔