المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
103. شرح معنى آية : ( وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ) الآية
آیت“اور جب تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد نکالی”کی تشریح
حدیث نمبر: 3295
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا إسحاق بن سليمان قال: سمعت مالكَ بن أنس يَذكُر. وأخبرني أبو بكر بن أبي نَصْر، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسي، حدثنا عبد الله ابن مَسلَمة فيما قَرأ على مالك، عن زيد بن أبي أُنيسة، أنَّ عبد الحميد بن عبد الرحمن ابن زيد بن الخطَّاب أخبره عن مسلم بن يَسَار الجُهَني: أنَّ عمر بن الخطَّاب سُئِلَ عن هذه الآية: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (2) وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ﴾، فقال عمر بن الخطَّاب: سمعت رسول الله ﷺ وسُئِلَ عنها، فقال رسول الله ﷺ:"خَلَقَ اللهُ آدمَ، ثم مَسَحَ ظهرَه بيمينه فاستَخرَجَ منه ذُرِّيّةً، فقال: خلقتُ هؤلاءِ للجنَّة، وبعمل أهلِ الجنة يَعمَلون، ثم مَسَحَ على ظهرِه فاستَخرَجَ منه ذُريةً، فقال: خلقتُ هؤلاءِ للنار وبعمل أهل النار يَعمَلون"، فقال رجل: يا رسول الله، ففِيمَ العملُ؟ فقال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله إذا خَلَقَ الرجلَ للجنَّة، استَعمَلَه بعمل أهل الجنة.." الحديث (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3256 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3256 - على شرط مسلم
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت: وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ ٰادَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَ اَشْھَدَھُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْآ بَلٰی شَھِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غٰفِلِیْنَ (الاعراف: 172) ” اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود پر گواہ کیا کیا میں تمہارا رب نہیں سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی “۔ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اسی آیت کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، پھر اپنے ہاتھ کے ساتھ ان کی پشت کو ملا اور ان کی اولاد کو نکال لیا پھر فرمایا: میں نے ان کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ جنتیوں والے عمل ہی کریں گے، پھر دوبارہ ان کی پشت کو ملا اور ان کی (مزید) اولاد کو نکالا پھر فرمایا: میں نے ان کو دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ دوزخیوں والے عمل ہی کریں گے۔ ایک شخص بولا: تو پھر عمل کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے تو وہ اس سے جنتیوں والے کام بھی کروا لیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3295]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3295 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) انظر التعليق على هذه القراءة في الحديث السابق.
📝 نوٹ / توضیح: اس قرات پر تبصرہ پچھلی حدیث میں دیکھیں۔
(1) حسن لغيره، وإسناده ضعيف لانقطاعه كما سلف بيانه برقم (74).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "حسن لغیرہ" ہے، اور اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے جیسا کہ رقم (74) پر بیان ہو چکا ہے۔