المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين
تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔
حدیث نمبر: 336
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا موسى بن أيوب النَّصِيبي وصفوان بن صالح الدِّمشقي قالا: حدثنا الوليد بن مسلم الدمشقي، حدثنا ثَوْر بن يزيد، حدثني خالد بن مَعْدان، حدثني عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي وحُجْر بن حُجْر الكَلَاعي قالا: أتينا العِرباضَ بن ساريةَ، وهو ممَّن نَزَلَ فيه: ﴿وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ﴾ [التوبة: 92] ، فسلَّمْنا وقلنا: أتيناك زائرينَ ومُقتبسِين، فقال العرباضُ: صلَّى بنا رسول الله ﷺ الصبحَ ذات يومٍ، ثم أقبَلَ علينا فوعَظَنا موعظةً بليغةً، ذَرَفَت منها العيون، ووَجِلَت منها القلوب، فقال قائل: يا رسول الله، كأنها موعظةُ مُودِّع، فما تَعهَدُ إلينا، فقال:"أُوصِيكُم بتقوى الله والسَّمع والطاعة، وإنْ عبدًا حَبَشيًّا، فإنه مَن يَعِشْ منكم فسيرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بسُنَّتي وسُنَّة الخُلفاء الراشدين المَهديِّين، فتمسَّكُوا بها، وعَضُّوا عليها بالنَّواجِذ، وإيَّاكم ومُحدَثاتِ الأُمور، فإنَّ كل محدَثةٍ بدعةً، وكلَّ بدعةٍ ضلالةٌ" (1) . ومنهم يحيى بن أبي المُطاع القرشي:
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: ﴿وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ﴾ ”اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ ہے) کہ جب وہ آپ کے پاس آئے کہ آپ ان کے لیے سواری کا انتظام کریں اور آپ نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں، تو وہ اس حال میں واپس لوٹے کہ ان کی آنکھیں غم کی وجہ سے آنسو بہا رہی تھیں کہ وہ (جہاد میں) خرچ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے“ [سورة التوبة: 92] ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور پھر ہمیں نہایت بلیغ وعظ فرمایا جس سے آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور دل دہل گئے، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا لگتا ہے جیسے یہ کسی رخصت ہونے والے کا وعظ ہو، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں تقویٰ الہی اور (حکمران کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ وہ حبشی غلام ہی ہو، کیونکہ تم میں سے جو جئے گا وہ شدید اختلافات دیکھے گا، پس تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے پر کاربند رہنا، اسے مضبوطی سے پکڑ لینا اور اسے ڈاڑھوں سے تھام لینا، اور دین میں نئے کاموں سے بچنا کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 336]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 336 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، لمتابعة اثنين من التابعين بعضهما بعضًا، وحُجْر الكلاعي وإن كان مجهولًا لتفرد خالد بن معدان بالرواية عنه، إلّا أنه في رتبة من يصلح للاعتبار في المتابعات والشواهد، وعبد الرحمن سلف الكلام عليه.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے اور یہ سند "جید" (عمدہ) ہے کیونکہ دو تابعین نے ایک دوسرے کی متابعت کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حُجر الکلاعی اگرچہ مجہول سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان سے صرف خالد بن معدان نے روایت کی ہے، لیکن وہ اس مرتبے کے راوی ضرور ہیں کہ متابعات و شواہد میں ان کا اعتبار کیا جا سکے۔ عبد الرحمن (بن عمرو السلمی) کا تذکرہ پہلے گزر چکا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17145)، وعنه أبو داود (4607)، وأخرجه ابن حبان (5) من طريق علي بن المديني، كلاهما (أحمد وابن المديني) عن الوليد بن مسلم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (28/ 17145) میں، ان سے امام ابو داود نے (4607) میں، اور امام ابن حبان نے (5) میں علی بن المدینی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ تمام (احمد اور ابن المدینی) ولید بن مسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔