🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
144. حكاية أسارة عمار بن ياسر بيد الكفار
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی کفار کے ہاتھوں قید کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3405
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأَزدي، حدثنا معاوية بن عَمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن سفيان، عن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبي صادق، قال: قال عليٌّ: إنكم ستُعرَضون على سبِّي فسُبُّوني، فإن عُرِضَت عليكم البراءةُ مني، فلا تَبرَؤوا مني، فإنِّي على الإسلام، فليَمدُدْ أحدُكم عنقَه ثَكِلَتْه أمُّه، فإنه لا دنيا له ولا آخرةَ بعد الإسلام. ثم تلا عليٌّ: ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ [النحل: 106] (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3365 - صحيح
سیدنا ابوصادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عنقریب تمہیں، مجھے گالیاں دینے پر مجبور کیا جائے گا (تو تمہیں اس بات کی اجازت ہے) تم مجھے گالیاں دے لینا لیکن اگر تمہیں مجھ سے برات پر مجبور کیا جائے تو تم مجھ سے برات کا اظہار مت کرنا کیونکہ میں اسلام پر قائم ہوں۔ (ایسے حالات میں) اپنی گردن بلند رکھنا، اس کی ماں اس پر روئے (پیار سے یہ جملہ بولا جاتا ہے) اسلام کے بعد اس کے لیے نہ تو دنیا (کی کوئی اہمیت) ہے اور نہ آخرت (کی)، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ (النحل: 106) سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3405]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3405 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله في الجملة ثقات إلّا أنه منقطع، أبو صادق - وهو الأزدي الكوفي - لم يسمع من علي فيما قاله أبو حاتم الرازي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے راوی مجموعی طور پر ثقہ ہیں لیکن یہ منقطع ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابوصادق (الازدی الکوفی) نے حضرت علی سے نہیں سنا، جیسا کہ ابو حاتم رازی نے فرمایا ہے۔
وأخرجه بنحوه دون ذكر الآية: ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 7/ 466 من طريق عبد الملك بن عمير، عن همدان مولى علي، عن علي. وصحَّح إسناده الذهبي في "تاريخ الإسلام" 2/ 924.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (7/ 466) میں بغیر آیت کے ذکر کے، عبدالملک بن عمیر کے طریق سے، ہمدان مولیٰ علی سے اور انہوں نے علی سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (2/ 924) میں اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔