المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
169. يمثل لكل قوم معبودهم يوم القيامة
قیامت کے دن ہر قوم کے سامنے اس کا معبود لا کر کھڑا کر دیا جائے گا
حدیث نمبر: 3466
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا أبو معاوية. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يَعلَى بن عُبيد؛ قالا: حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق القُرشي، عن النُّعمان بن سعد، عن عليٍّ في هذه الآية: ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [مريم: 85] ، قال علي: أمَا واللهِ ما يُحشَرُ الوفدُ على أرجلهم، ولا يُساقُون سَوقًا، ولكنهم يُؤتَونَ بنُوقٍ (1) لم تَرَ الخلائقُ مثلَها، عليها رَحْلُ الذهب، وأزِمَّتُها الزَّبَرجَد، فيركبون عليها حتى يَضرِبوا أبوابَ الجنة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3425 - بل عبد الرحمن لم يرو له مسلم ولا لخاله النعمان وضعفوه
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3425 - بل عبد الرحمن لم يرو له مسلم ولا لخاله النعمان وضعفوه
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس آیت: یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا (مریم: 85) ” جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بنا کر “۔ کے متعلق فرماتے ہیں: خدا کی قسم! کوئی مہمان محشر میں نہ تو اپنے پاؤں پر چلے گا اور نہ انہیں ہانکا جائے گا بلکہ ان کو ایسی اونٹنیوں پر لایا جائے گا کہ مخلوقات نے اس سے پہلے ایسی اونٹنیاں کبھی نہ دیکھی ہوں گی، ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے، ان کی لگامیں زبر جد کی ہوں گی، وہ ان پر سوار ہو کر جنت کے دروازوں سے داخل ہوں گے (اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی)۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3466]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3466 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق، وليس هو بالقرشي كما توهَّمه بعض رواة الإسناد، بل هو أبو شيبة الواسطي، وهو ابن أخت النُّعمان بن سعد وقد تفرَّد بالرواية عنه، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند عبد الرحمٰن بن اسحاق کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ وہ (ثقہ) "قرشی" نہیں ہیں جیسا کہ بعض کو وہم ہوا، بلکہ یہ "ابو شیبہ الواسطی" ہیں جو نعمان بن سعد کے بھانجے ہیں اور ان سے روایت میں "منفرد" ہیں۔ ذہبی نے "تلخیص" میں اسی کو علت قرار دیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (8902) من طريق علي بن مسهر عن عبد الرحمن بن إسحاق.
📝 نوٹ / توضیح: اور یہ مصنف کے ہاں (8902) پر علی بن مسہر کے طریق سے عن عبد الرحمٰن بن اسحاق آئے گا۔