المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
170. تفسير آية ( إلا من اتخذ عند الرحمن عهدا )
آیت“مگر وہ جس نے رحمٰن کے پاس کوئی عہد لے رکھا ہو”کی تفسیر
حدیث نمبر: 3467
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم المزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد العزيز بن حاتم، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد، حدثنا المسعوديُّ، عن عَوْن، عن الأسوَد بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود أنه قرأ ﴿إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا﴾ [مريم: 87] ، قال: اتَّخِذُوا عند الرحمن عهدًا، فإنَّ الله يقول يومَ القيامة: من كان له عندي عهدٌ فليَقُمْ. قال: فقلنا: فعَلِّمْنا يا أبا عبد الرحمن، قال: قولوا: اللهمَّ فاطرَ السماوات والأرض، عالمَ الغيب والشهادة، إني أَعهدُ إليك في هذه الحياة الدنيا (2) ، إنك إنْ تَكِلْني إلى عملٍ (3) تُقرِّبْني من الشرِّ، وتُباعِدْني من الخير، وإني لا أثِقُ إلَّا برحمتِك، فاجعله لي عندَك عهدًا تؤدِّيهِ إليَّ يومَ القيامة، إنك لا تُخلِفُ الميعادَ (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [20 - ومن تفسير سورة طه] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3426 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [20 - ومن تفسير سورة طه] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3426 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے یہ آیت: اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَھْدًا (مریم: 87) ” مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس قرار رکھا ہے “۔ تلاوت کی اور فرمایا: رحمن کے ہاں عہد باندھ لو کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: جس کا میرے پاس کوئی عہد ہے وہ اٹھ کر کھڑا ہو (سیدنا اسود بن یزید) کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! ہمیں اس کی تعلیم دیجئے! انہوں نے فرمایا: کہو: اللّٰھم فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰالمَ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ اِنِّیْ اَعْھَدْ اِلَیْکَ فِی ھٰذِہٖ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا بِاَنِّیْ اُشْھِدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ فَاِنَّکَ اِنْ تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِی تُقَڑِّبُنِی مِنَ الشَّرِّ وَتُبَاعِدُنِیْ مِنَ الْخَیْرِ وَاِنِّیْ لَا اَثِقُ اِلَّا بِرَحْمَتِکَ فَاجْعَلْہُ لِیْ عِنْدَکَ عَھْدًا تَوَفَّیْتُہٗ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَاد ” اے اللہ! اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، غیب اور شہادت کے عالم، میں اپنی اس دنیوی زندگی میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور تو ہی وحدہ لاشریک ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں۔ اگر تو مجھے میرے نفس کے سپرد کر دے گا تو مجھے شر کے قریب اور خیر سے دور کر دے گا اور میں تو صرف تیری رحمت پر ہی بھروسہ کرتا ہوں تو میرا یہ عہد اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور قیامت کے دن تک تو مجھے اس پر ثابت قدم رکھ بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3467]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3467 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) زاد هنا في المطبوع: بأني أشهد أن لا إله إلَّا أنت وحدك لا شريك لك، وأنَّ محمدًا عبدك ورسولك. ووقعت هذه الزيادة أيضًا في "مسند أحمد" وحده من بين مصادر التخريج.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) یہاں مطبوعہ میں یہ اضافہ ہے: "بأني أشهد..." (میں گواہی دیتا ہوں...)۔ یہ اضافہ مصادر تخریج میں سے صرف "مسند احمد" میں موجود ہے۔
(3) في المطبوع وكذا في مصادر التخريج: إلى نفسي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) مطبوعہ اور مصادر تخریج میں "إلی نفسی" (میری جان کی طرف) کے الفاظ ہیں۔
(4) خبر صحيح موقوف، وهذا إسناد منقطع بين عون - وهو ابن عبد الله بن عتبة بن مسعود - وبين الأسود بن يزيد بينهما فيه أبو فاختة سعيد بن علاقة، وهو ثقة.
⚖️ درجۂ حدیث: (4) یہ خبر موقوفاً "صحیح" ہے، لیکن یہ سند "منقطع" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عون (بن عبد اللہ) اور اسود بن یزید کے درمیان "ابو فاختہ سعید بن علاقہ" کا واسطہ چھوٹا ہوا ہے، اور ابو فاختہ "ثقہ" ہیں۔
فقد أخرجه ابن أبي شيبة 10/ 329 عن وكيع، والطبراني (8919) وعنه أبو نعيم في "الحلية" 4/ 271 من طريق عبد الله بن رجاء وعاصم بن علي، ثلاثتهم عن المسعودي - وهو عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة - عن عون بن عبد الله، عن أبي فاختة، عن الأسود بن يزيد، عن ابن مسعود. والمسعودي - وإن كان قد اختلط - رواية وكيع وعبد الله بن رجاء عنه قبل الاختلاط. وأخرجه أحمد (7/ 3916) من طريق حماد بن سلمة، عن سهيل بن أبي صالح وعبد الله بن عثمان بن خيثم، عن عون بن عبد الله، عن ابن مسعود مرفوعًا. وهذا إسناد معضل، ورفعُه شاذٌّ والمحفوظ أنه موقوف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (10/ 329) نے وکیع سے، طبرانی (8919) اور ابو نعیم نے "الحلیہ" (4/ 271) میں عبد اللہ بن رجاء اور عاصم بن علی سے، ان تینوں نے مسعودی سے روایت کیا ہے جس میں عون اور اسود کے درمیان "ابو فاختہ" موجود ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مسعودی اگرچہ "مختلط" ہو گئے تھے، مگر وکیع اور عبد اللہ بن رجاء کی روایت ان سے اختلاط سے پہلے کی ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: احمد (7/ 3916) نے اسے حماد بن سلمہ کے طریق سے عون عن ابن مسعود "مرفوعاً" نکالا ہے، جو کہ "معضل" (دو راوی غائب) ہے، اور اس کا رفع "شاذ" ہے، محفوظ یہ ہے کہ یہ "موقوف" ہے۔
وقد أخرجه موقوفًا أيضًا محمد بن فضيل الضبِّي في "الدعاء" (51) من طريق القاسم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن جده عبد الله بن مسعود والقاسم ثقة إلّا أنَّ روايته عن جده مرسلة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے محمد بن فضیل الضبی نے "الدعاء" (51) میں قاسم بن عبد الرحمٰن کے طریق سے اپنے دادا ابن مسعود سے "موقوفاً" روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: قاسم "ثقہ" ہیں مگر اپنے دادا سے ان کی روایت "مرسل" (منقطع) ہوتی ہے۔