🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
171. تفسير سورة طه
سورۂ طٰہٰ کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3468
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة، أخبرنا عمر بن أبي زائدة قال: سمعت عِكرمةَ يَذكُر عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿طه﴾ قال: هو كقولك: يا محمدُ، بلسانِ الحَبَش (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3427 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان طٰہ کے متعلق مروی ہے کہ حبشی زبان میں اس کا مطلب یا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3468]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3468 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي. وقد انفرد به الحاكم.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "قوی" ہے، اور حاکم اس میں "منفرد" ہیں۔
وخالف وكيعٌ عند ابن أبي شيبة في "المصنف" 10/ 470 فرواه عن عمر بن أبي زائدة، عن عكرمة قال: (طه) بالحبشية: يا رجل. ووكيع أوثق من عمرو بن طلحة القنّاد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اور وکیع نے ابن ابی شیبہ (المصنف: 10/ 470) میں مخالفت کرتے ہوئے اسے عمر بن ابی زائدہ سے، انہوں نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ: "(طہ) حبشی زبان میں 'اے آدمی' (یا رجل) کو کہتے ہیں"۔ اور وکیع عمرو بن طلحہ القناد سے زیادہ "ثقہ" ہیں۔