المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
181. مذاكرة الساعة بين الأنبياء فى ليلة الإسراء
شبِ معراج میں انبیاء علیہم السلام کے درمیان قیامت کے بارے میں باہمی گفتگو
حدیث نمبر: 3489
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا العوَّام بن حَوشَب، عن جَبَلة بن سُحَيم، عن مُؤْثِر بن عَفَازَة، عن عبد الله بن مسعود قال: لما أُسرِيَ ليلةَ أُسرِيَ بالنبي ﷺ، لقيَ إبراهيمَ وموسى وعيسى، فتذاكروا الساعةَ، فبدؤوا بإبراهيمَ فسألوه عنها، فلم يكن عنده منها عِلمٌ، ثم موسى، فلم يكن عنده منها عِلمٌ، فتراجَعُوا الحديثَ إلى عيسى، فقال عيسى: عَهِدَ اللهُ إليَّ فيما دون وَجْبتِها فلا نعلَمُها - قال: فذَكَرَ من خروج الدَّجال - فأَهبِطُ فاقتلُه، ويَرجِعُ الناسُ إلى بلادهم فيَستقبِلُهم يأجوجُ ومأجوجُ وهم من كلِّ حَدَبٍ يَنسِلُون، فلا يَمرُّون بماءٍ إِلَّا شربوه ولا يَمرُّون بشيءٍ إِلَّا أَفسدُوه، فيَجأَرُون إلى الله فيَدعُون اللهَ فيُميتُهم، فتَجأَرُ الأرضُ إلى الله من رِيحهم، ويَجأَرُون إليَّ، فأَدعُو، فيُرسِل السماءَ بالماء، فيحمل أجسامَهم فيَقذِفُها في البحر، ثم تُنسَفُ الجبالُ وتُمدُّ الأرضُ مدَّ الأَدِيم، فعَهِدَ اللهُ إليَّ إذا كان ذلك، فإنَّ الساعة من الناس كالحامل المُتِمِّ، لا يدري أهلُها متى تَفجَؤُهم بولادتِها ليلًا أو نهارًا. قال عبد الله: فوجدتُ تصديق ذلك في كتاب الله ﷿: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (96) وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ الآية [الأنبياء: 96، 97] ، قال: وجميعُ الناس من كل مكانٍ جاؤوا منه يومَ القيامة فهو حَدَبٌ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فأمّا مُؤْثِر فليس بمجهولٍ، قد روى عن عبد الله بن مسعود والبراء بن عازب، وروى عنه جماعةٌ من التابعين (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3448 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فأمّا مُؤْثِر فليس بمجهولٍ، قد روى عن عبد الله بن مسعود والبراء بن عازب، وروى عنه جماعةٌ من التابعين (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3448 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: معراج کی رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے ملے اور قیامت کے متعلق ان میں گفتگو ہوئی۔ سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا لیکن ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی علم نہ تھا۔ پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا تو ان کے پاس بھی قیامت کے متعلق معلومات نہ تھیں پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو عیسیٰ علیہ السلام بولے: وقوع قیامت کے قریب قریب کے زمانے کا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے عہد لیا ہے۔ اس لیے اس (وقوع قیامت کے معین وقت) کو ہم نہیں جانتے۔ پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے دجال کے خروج کا ذکر کیا (فرمایا کہ) پھر میں اتروں گا اور اس کو قتل کروں گا اور تمام لوگ اپنے اپنے شہروں کو لوٹ جائیں گے اور یاجوج ماجوج ان کو آگے سے آن ملیں گے اور وہ ہر طرف سے امنڈتے آ رہے ہوں گے۔ وہ جس پانی کے قریب سے گزریں گے، اس کو پی کر ختم کرتے جائیں گے اور ہر چیز ان کے راستے میں آئے گی، اس کو تباہ و برباد کرتے جائیں گے۔ پھر لوگ اللہ تعالیٰ کی برگاہ میں گڑگڑا کر دعا مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کر دے گا پھر ان کی بدبو کی وجہ سے زمین اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرے گی اور تمام لوگ مجھ سے کہیں گے، پھر میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگوں گا، اللہ تعالیٰ پانی کا ایک ریلا بھیجے گا جو ان کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گا، پھر پہاڑوں کو اکھیڑ دیا جائے گا اور زمین ایک دسترخوان کی طرح بچھا دی جائے گی، پس جب یہ حالات واقع ہو جائیں گے، (اس سے آگے کے حالات کا) اللہ تعالیٰ نے مجھ سے عہد لیا ہے کیونکہ اس وقت قیامت اس قدر قریب ہو گی جیسے کسی حاملہ عورت کے دن پورے ہو چکے ہوں، تو اس کے گھر والوں کو یہ پتہ نہیں ہوتا نہ جانے کس وقت ولادت ہو جائے؟ دن میں ہو گی یا رات میں؟۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس بات کی تصدیق قرآن کریم میں بھی پا لی (وہ یہ ہے): حَتّٰٓی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَھُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ (الانبیاء: 96) ” یہاں تک کہ کھولے جائیں گے یاجوج و ماجوج اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے۔“، وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ (الانبیاء: 97) ” اور قریب آیا سچا وعدہ “۔ اور آپ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ جہاں جہاں سے آئیں گے اس جگہ کو ” حدب “ کہتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اس کے راوی ” موثر “ مجہول نہیں ہے۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی ہے اور تابعین کی ایک جماعت نے ان سے روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3489]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3489 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده فيه ضعفٌ من جهة تفرُّد مؤثر بن عفازة بهذا السياق، فقد تفرَّد بذكر اجتماع الأنبياء الثلاثة بنبيّنا ﷺ وتذاكرهم الساعة في ليلة الإسراء، ثم إنَّ نسف الجبال ومدّ الأرض إنما يكون مع قيام الساعة لا قبلها، أما إهلاك يأجوج ومأجوج بعد مقتل الدجال فيشهد له حديث النواس بن سمعان الطويل في ذكر أشراط الساعة عند مسلم (2937)، لكن يخالفه في أنَّ الله يرسل على يأجوج ومأجوج طيرًا لا ماءً، فتحملهم الطير فتطرحهم حيث شاء الله.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس سند میں "مؤثر بن عفازہ" کے اس سیاق میں منفرد ہونے کی وجہ سے "ضعف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: وہ شبِ معراج نبی ﷺ کے ساتھ تین انبیاء کے اجتماع اور قیامت کے تذکرے میں منفرد ہیں۔ نیز پہاڑوں کا اڑنا اور زمین کا کھینچنا قیامت کے قیام کے وقت ہوگا نہ کہ اس سے پہلے۔ 🧩 متابعات و شواہد: البتہ یاجوج ماجوج کا ہلاک ہونا نواس بن سمعان کی صحیح مسلم (2937) والی حدیث سے ثابت ہے، لیکن اس میں مخالفت یہ ہے کہ اللہ پرندے بھیجے گا (جو انہیں پھینک دیں گے) نہ کہ پانی۔
وأما حديث مؤثر هذا فقد أخرجه ابن ماجه (4081) عن محمد بن بشار، عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: مؤثر کی یہ حدیث ابن ماجہ (4081) نے محمد بن بشار سے، انہوں نے یزید بن ہارون سے اسی سند کے ساتھ نکالی ہے۔
وأخرجه أحمد 6/ (3556) عن هشيم، عن العوام بن حوشب، به. وسيأتي عند المصنف برقم (8712) و (8852) من طريقين عن يزيد بن هارون.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (6/ 3556) نے ہشیم عن العوام بن حوشب سے روایت کیا ہے۔ اور یہ مصنف کے ہاں (8712، 8852) پر یزید بن ہارون کے دو طریقوں سے آئے گا۔
(1) لم نقف فيما بين أيدينا من مصادر على راو عنه غير جبلة بن سحيم، ولم يؤثر توثيقه عن غير العجلي وابن حبان والله تعالى أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) ہمارے پاس موجود مصادر میں جبلہ بن سحیم کے علاوہ ان سے روایت کرنے والا کوئی نہیں ملا، اور عجلی اور ابن حبان کے علاوہ کسی سے ان کی توثیق منقول نہیں، واللہ اعلم۔