🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
180. خطبة أبى بكر الصديق - رضى الله عنه -
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3488
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا موسى بن إسحاق القاضي، أخبرنا الله بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن عبد الله بن عُبيد القُرَشي، عن عبد الله بن عُكَيم، قال: خَطَبَنا أبو بكر الصِّدِّيق، فحَمِدَ اللهَ وأَثنى عليه بما هو له أهلٌ، قال: أُوصيكم بتقوى الله وأن تُثْنُوا عليه بما هو له أَهلٌ، وأن تَخلِطُوا الرَّغبةَ بالرَّهبة، فإنَّ الله أَثنى على زكريا وأهلِ بيتِه فقال: ﴿إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ﴾ [الأنبياء: 90] . ثمَّ اعلَموا عبادَ الله أن الله قد ارتَهَنَ بحقِّه أنفسَكم، وأَخَذَ على ذلك مواثيقَكم، واشترى منكم القليلَ الفانيَ بالكثير الباقي، وهذا كتابُ الله فيكم لا يَطفَأُ نورُه ولا تنقضي عجائبُه، فاستَضيؤوا بنُورِه، وانتصِحُوا كتابَه، واستَضيؤوا منه ليوم الظُّلمة، فإنه إنما خَلَقكم لعبادته، ووَكَّلَ بكم كِرامًا كاتبينَ يعلمون ما تفعلون. ثم اعلَموا عبادَ الله أنكم تَغدُون وتَرُوحون في أجَلٍ قد غُيِّب عنكم عِلمُه، فإن استطعتم أن تنقضيَ الآجالُ وأنتم في عمل الله فافعلوا، ولن تستطيعوا ذلك إلَّا بالله، فسابِقُوا في مَهَلٍ آجالَكم قبل أن تنقضيَ آجالُكم فيَردَّكم إلى سُوءِ أعمالِكم، فإنَّ قومًا جعلوا آجالَهم لغيرهم ونَسُوا أنفسَهم، فأنهاكم أن تكونوا أمثالَهم، فالوَحَا الوَحَا، ثم النَّجَا النَّجَا، فإنَّ وراءَكم طالب حَثيث (1) ، مَرُّه سريع (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3447 - عبد الرحمن بن إسحاق كوفي ضعيف
سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی، پھر فرمایا: میں تمہیں خوف خدا کی تاکید کرتا ہوں اور یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی وہ تعریف کرو جس کا وہ اہل ہے اور یہ کہ تم خوف اور امید دونوں کو قائم رکھو کیونکہ (انہی صفات کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ نے سیدنا زکریا علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے: اِنَّھُمْ کَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّرَھَبًا وَ کَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ (الانبیاء: 90) بے شک وہ بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے، اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں ۔ پھر اے اللہ تعالیٰ کے بندو! جان لو! اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے بدلے تمہاری جانوں کو گروی رکھا ہے اور اس پر تم سے پکا وعدہ لیا ہے اور تم سے باقی رہنے والی زیادہ چیز کے بدلے، فنا ہونے والی کم چیز خرید لی ہے اور یہ تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، نہ اس کا نور بجھتا ہے، نہ اس کے عجائبات ختم ہوتے ہیں، تم اس کے نور سے روشنی حاصل کرو اور اس کی کتاب سے نصیحت حاصل کرو اور اس سے اندھیرے کے دن کے لیے روشنی حاصل کرو کیونکہ اللہ رب العزت نے تمہیں اپنی عبادت کی خاطر پیدا کیا ہے اور تم پر کراماً کاتبین مقرر کیے ہیں، وہ تمہارے تمام اعمال کو جانتے ہیں۔ پھر اے اللہ تعالیٰ کے بندو! جان لو تم ایک ایسی اجل میں صبح و شام کرتے ہو جس کا علم تم سے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں اپنی عمر بتا سکتے ہو تو ایسا لازمی کرنا اور تم یہ سب اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر نہیں کر پاؤ گے چنانچہ تم اپنی زندگی ختم ہونے سے پہلے ہی (نیکیوں کی طرف) رغبت کرو پھر تمہیں تمہارے برے اعمال لوٹا دیئے جائیں گے کیونکہ ایک قوم نے اپنی زندگی غیر ضروری کاموں میں صرف کر دی ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو بھلا دیا تو میں تمہیں اس بات سے منع کرتا ہوں کہیں تم ان کی مثل مت ہو جانا پس جلدی کرو، جلدی کرو پھر نجات ہے، نجات ہے کیونکہ تمہارے پیچھے تمہیں ڈھونڈنے والا بھاگتا آ رہا ہے، جس کی رفتار بہت تیز ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3488]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3488 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا في النسخ الخطية بلا ألف، والجادّة: طالبًا حثيثًا، بالنصب كما وقع في "شعب الإيمان" للبيهقي (1011) من طريق المصنف، وانظر التعليق على هذه الصورة عند الحديث السالف برقم (1429)، وإذا كانا مرفوعين فقد يوجَّه على أنه خبر "إن"، ويكون اسمها حينئذٍ ضمير شأن محذوفًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) قلمی نسخوں میں یہ (الف کے بغیر) ہے، جبکہ درست طریقہ "طالباً حثیثاً" (نصب کے ساتھ) ہے جیسا کہ بیہقی کی "شعب الایمان" (1011) میں مصنف کے طریق سے ہے۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: اگر یہ دونوں مرفوع ہوں تو اس کی توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ "إن" کی خبر ہیں اور اس کا اسم "ضمیر شان" محذوف ہے۔
(2) إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق - وهو أبو شيبة الواسطي - وجهالة عبد الله بن عبيد القرشي، وأعله الذهبي في "تلخيصه" بتضعيف عبد الرحمن بن إسحاق.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند عبد الرحمٰن بن اسحاق (ابو شیبہ الواسطی) کے ضعف اور عبد اللہ بن عبید القرشی کی "جہالت" کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ ذہبی نے "تلخیص" میں عبد الرحمٰن کے ضعف کو علت قرار دیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (10110)، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 30/ 330 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (10110) میں حاکم کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وهو في "مصنف" ابن أبي شيبة 13/ 258، ومن طريقه أخرجه أيضًا أبو نُعيم في "الحلية" 1/ 35.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "مصنف ابن ابی شیبہ" (13/ 258) میں ہے، اور ان کے طریق سے ابو نعیم نے "الحلیہ" (1/ 35) میں بھی نکالا ہے۔
وأخرجه هناد في "الزهد" (495) عن محمد بن فضيل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ہناد نے "الزہد" (495) میں محمد بن فضیل سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي (10109) من طريق ابن أبي الدنيا، عن أحمد بن عمران، عن محمد بن فضيل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (10109) نے ابن ابی الدنیا کے واسطے سے، احمد بن عمران سے، انہوں نے محمد بن فضیل سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو عُبيد القاسم بن سلام في "الخطب والمواعظ" (121) من طريق أبي الهذيل عن عمرو بن دينار قال: خطب أبو بكر الصديق … فذكره وزاد فيه. وهذا منقطع، عمرو لم يدرك أبا بكر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو عبید قاسم بن سلام نے "الخطب والمواعظ" (121) میں ابو الہذیل کے طریق سے، عمرو بن دینار سے روایت کیا کہ "ابو بکر صدیق نے خطبہ دیا..."۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ "منقطع" ہے، کیونکہ عمرو نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔