المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
188. إنما سمى الله البيت العتيق لأنه أعتقه من الجبابرة
اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو ”بیتِ عتیق“ اس لیے نام دیا کہ اسے جابر حکمرانوں سے آزاد رکھا
حدیث نمبر: 3508
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله البزَّاز ببغداد، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سلَّام بن مِسْكين، عن عائذ الله بن عبد الله المُجاشِعي، عن أبي داود السَّبيعي، عن زيد بن أرقَمَ قال: قلنا: يا رسول الله، ما هذه الأضاحيُّ؟ قال:"سُنَّةُ أبيكم إبراهيمَ"، قال: قلنا: فما لنا منها؟ قال:"بكلِّ شَعرةٍ حَسَنةٌ"، قال: قلنا: يا رسول الله، فالصُّوفُ؟ قال:"بكلِّ شَعرةٍ من الصُّوف حَسَنةٌ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3467 - عائذ الله قال أبو حاتم منكر الحديث
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3467 - عائذ الله قال أبو حاتم منكر الحديث
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ ہم نے پوچھا: ان میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے بدلے تمہارے لیے نیکی ہے۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اون میں کیا ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے بھی تمہارے لیے نیکی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3508]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3508 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف جدًّا، أبو داود السَّبيعي - وهو نُفيع بن الحارث الأعور - متروك الحديث، والراوي عنه - وهو عائذ الله - ضعيف، وكذا محمد بن مسلمة فيه ضعف لكنه متابع. وقد أعلَّه الذهبي في "التلخيص" بعائذ الله وأهمل إعلالَه بأبي داود السبيعي الأعور وهو آفته.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند "انتہائی ضعیف" (ضعیف جداً) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو داود السبیعی (نفیع بن الحارث الاعور) "متروک الحدیث" ہے۔ عائذ اللہ "ضعیف" ہے، اور محمد بن مسلمہ میں بھی ضعف ہے مگر وہ متابع ہے۔ ذہبی نے "تلخیص" میں علت عائذ اللہ کو قرار دیا لیکن اصل آفت "ابو داود السبیعی" کو نظر انداز کر دیا۔
وأخرجه أحمد (32/ 19283) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (32/ 19283) نے یزید بن ہارون سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3127) من طريق آدم بن أبي إياس، عن سلام بن مسكين، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3127) نے آدم بن ابی ایاس کے طریق سے، سلام بن مسکین سے روایت کیا ہے۔