المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
195. كان خلق رسول الله القرآن
رسول اللہ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا
حدیث نمبر: 3523
أخبرنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا قيس بن أُنَيف، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا جعفر بن سليمان، عن أبي عِمْران، عن يزيد بن بابَنُوسَ قال: قلنا لعائشة: يا أمَّ المؤمنين، كيف كان خُلُقُ رسولِ الله ﷺ؟ قالت: كان خُلُقُ رسولِ الله ﷺ القرآنَ، ثم قالت تقرأُ سورةَ المؤمنين؟ اقرأْ ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ﴾، حتى بَلَغَ العَشْرَ، فقالت: هكذا كان خلقُ رسولِ الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3481 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3481 - صحيح
سیدنا یزید بن بابنوس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: اے ام المومنین رضی اللہ عنہا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق ” قرآن “ ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم سورۃ ” مومنون “ پڑھتے ہو۔ پڑھو: قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ (المؤمنون: 1) ” بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے “۔ یہاں تک کہ دس آیتوں تک پہنچ گئے۔ پھر انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق یہی تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3523]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3523 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل يزيد بن بابنوس، فهو وإن لم يرو عنه غير أبي عمران الجَوْني فإنه معروف بالرواية عن عائشة، وقال الدارقطني: لا بأس به، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وجهّله أبو حاتم، وهو قد توبع على حديثه هذا غير ذكر سورة المؤمنين فلم يتابعه عليه أحد، وجعفر بن سليمان جيد الحديث، وأما قيس بن أُنيف فهو صالح حسن الحديث كما سلف تقريره عند الحديث رقم (3159)، وهو متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند یزید بن بابنوس کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ یزید سے ابو عمران الجونی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی مگر وہ عائشہ سے روایت میں معروف ہیں۔ دارقطنی نے "لا بأس بہ" کہا، ابن حبان نے "ثقات" میں ذکر کیا، ابو حاتم نے مجہول کہا۔ "سورہ مومنون" کے ذکر کے علاوہ باقی حدیث میں ان کی متابعت کی گئی ہے، لیکن اس ذکر میں کوئی متابع نہیں۔ جعفر بن سلیمان "جید الحدیث" ہیں، اور قیس بن انیف "صالح" اور "حسن الحدیث" ہیں (جیسا کہ 3159 پر گزرا) اور وہ متابع ہیں۔
فقد أخرجه النسائي (11287) عن قتيبة بن سعيد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11287) نے قتیبہ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ورواه عن عائشة سعدُ بن هشام الأنصاري عند أحمد (40/ 24269)، ومسلم (746)، وأبي داود (1342)، والنسائي (424)، وابن حبان (2551)، وعبدُ الله بن أبي قيس عند أحمد (42/ 25546)، وجبيرُ بن نفير عند النسائي (11073)، ثلاثتهم يذكر: أنه سألها عن خُلُق رسول الله ﷺ، فتقول: القرآن. ولم يذكر أحدٌ سورة المؤمنين.
🧾 تفصیلِ روایت: عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسے سعد بن ہشام الانصاری (مسلم وغیرہ)، عبد اللہ بن ابی قیس (احمد) اور جبیر بن نفیر (نسائی) نے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اخلاقِ رسول ﷺ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: "(آپ ﷺ کا اخلاق) قرآن تھا"۔ مگر کسی نے "سورہ مومنون" کا ذکر نہیں کیا۔