المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
198. كراهة السمر
رات کو غیر ضروری باتیں کرنے کی کراہت
حدیث نمبر: 3530
أخبرني أبو العبَّاس السَّيّاري، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم (3) ، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثني يزيد النَّحْوي، أنَّ عِكرمةَ حدَّثه عن ابن عبَّاس قال: جاء أبو سفيان إلى رسول الله ﷺ فقال: يا محمدُ، أَنشُدُك اللهَ والرَّحِمَ، قد أَكَلْنا العِلْهِزَ - يعني الوَبَرَ والدمَ (4) - فأنزل الله ﷿: ﴿وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ﴾ [المؤمنون: 76] (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3488 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3488 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ابوسفیان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور بولا: میں اللہ تعالیٰ کی اور رحم کی قسم کھا کر کہتا ہوں: ہم جانور کا خون اور بال کھا لیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَلَقَدْ اَخَذْٰناھُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوْا لِرَبِّھِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُوْنَ (المؤمنون: 76) ” اور بے شک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ گڑگڑاتے ہیں “۔ (،)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3530]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3530 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف "حاتم" في النسخ الخطية إلى: حكيم، وقد جاء على الصواب في بضعة عشر موضعًا من هذا الكتاب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) قلمی نسخوں میں "حاتم" کا نام تحریف ہو کر "حکیم" بن گیا ہے، حالانکہ اس کتاب میں دس سے زیادہ مقامات پر یہ (نام) درست آیا ہے۔
(4) لفظ "والدم" سقط من (ز) و (ص) و (ع)، وأثبتناه من (ب) و"التلخيص" ومن "دلائل النبوة" للبيهقي 2/ 329 حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (4) لفظ "والدم" (اور خون) نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) سے ساقط ہو گیا تھا، ہم نے اسے (ب)، "تلخیص" اور بیہقی کی "دلائل النبوۃ" (2/ 329) سے ثابت کیا ہے، جہاں انہوں نے اسے مصنف کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
(5) حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن موسى بن حاتم، وقد توبع، والحسين ابن واقد صدوق لا بأس به.
⚖️ درجۂ حدیث: (5) حدیث "قوی" ہے، اور یہ سند محمد بن موسیٰ بن حاتم کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ اور حسین بن واقد "صدوق" (سچے) ہیں، ان میں کوئی حرج نہیں۔
وأخرجه النسائي (11289)، وابن حبان (967) من طريق علي بن الحسين بن واقد، عن أبيه، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11289) اور ابن حبان (967) نے علی بن حسین بن واقد کے طریق سے، اپنے والد سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔