🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
213. تفسير سورة الفرقان
سورۂ الفرقان کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3561
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبَّاس بن محمد الدُّورِي، حدثنا خالد بن مَخلَد القَطَواني، حدثنا موسى بن يعقوب الزَّمْعي، عن عمِّه الحارث بن عبد الرحمن، عن أم سَلَمة قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَعَدُّ بنُ عدنانَ بنِ أُدَدِ بنِ زَنْد بن البَرَا (3) بن أعراقِ الثَّرى" قالت: ثم قرأَ رسول الله ﷺ: (أَهلَكَ عادًا وثَمُودَ وأصحابَ الرَّسِّ وقُرونًا بينَ ذلكَ كثيرًا (4) لا يَعلَمُهم إلَّا اللهُ) . قالت أمُّ سلمة: وأعراقُ الثَّرى إسماعيلُ بن إبراهيم، وزَنْدٌ هَمَيسَعُ، وبَرَا نَبْتٌ (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3519 - صحيح
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَعْدُ بْنِ عَدْنَانَ بْنِ اٰدَدَ بْنِ زَنْدِ بْنِ الْبَرَائِ بْنِ اَعْرَاقِ الثَّرَی آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی: (اھلک عَادًا وَّ ثَمُوْدَ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًا بَیْنَ ذٰلِکَ کَثِیْرًا» (الفرقان: 38) اور عاد اور ثمود اور کنویں والوں کو اور ان کے بیچ میں بہت سی سنگتیں (قومیں) ۔ (،) ان کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اعراق الثری سیدنا اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام ہیں اور زند ھمسیع ہیں اور براء نبت ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3561]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3561 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) هكذا في الأصول الخطية في الموضعين هنا، بموحَّدة، وفي نسخة (ز) في الحديث الآتي عند المصنف برقم (3771): ثرا، بمثلَّثة، والثرا والبرا من أسماء التراب، وله وجه مع اسم أبيه أعراق الثري، وفي بعض المصادر: يرى، بياء مثنّاة في أوله، وهو الذي ذكره الذهبي في "المشتبه"، وضبطه ابن ناصر الدين الدمشقي في "توضيح المشتبه" 9/ 209 بفتح أوله والراء مقصورًا.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں دونوں جگہوں پر یہ لفظ (ب کے ساتھ) ہے، جبکہ نسخہ (ز) میں مصنف کی اگلی حدیث نمبر (3771) میں "ثرا" (ث کے ساتھ) ہے۔ "ثرا" اور "برا" مٹی کے ناموں میں سے ہیں، اور اس کے والد کے نام "اعراق الثری" کے ساتھ اس کی مناسبت بھی ہے۔ بعض مصادر میں "یری" (ی کے ساتھ) بھی ہے، جسے ذہبی نے "المشتبہ" میں ذکر کیا ہے اور ابن ناصر الدین دمشقی نے "توضیح المشتبہ" (9/ 209) میں اسے پہلے حرف کے فتحہ اور راء کے مقصورہ ہونے کے ساتھ ضبط کیا ہے۔
(4) كذا وقع في الرواية، وهو ذهول، جمع فيه بين آيتين: الأولى في سورة النجم آية 50: ﴿وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادًا الْأُولَى﴾، والثانية في سورة الفرقان آية 38: ﴿وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ﴾ إلى آخر الآية.
📝 نوٹ / توضیح: روایت میں اسی طرح آیا ہے، جو کہ ایک "ذہول" (بھول) ہے، اس میں راوی نے دو آیتوں کو ملا دیا ہے: پہلی سورہ نجم کی آیت 50: ﴿وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادًا الْأُولَى﴾، اور دوسری سورہ فرقان کی آیت 38: ﴿وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ﴾۔
(5) إسناده ضعيف، تفرد به موسى بن يعقوب الزمعي، وفي حفظه لِين وقد اضطرب في إسناده، فروي عنه هنا عن عمِّه الحارث بن عبد الرحمن عن أم سلمة، والحارث هذا لم نقف له على ترجمة، ولا ندري أسمع من أم سلمة أم لا، وقد سمَّاه فيما سيأتي عند المصنف برقم (3771): الحارث بن عبد الله بن زمعة، وجعله من روايته عن أبيه عن أم سلمة، وكناه في رواية عند البيهقي في "الدلائل" 1/ 177 أبا الحويرث.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں موسیٰ بن یعقوب زمعی منفرد ہیں، ان کے حافظے میں کمزوری (لین) تھی اور اس سند میں انہوں نے "اضطراب" کیا ہے۔ یہاں انہوں نے اپنے چچا حارث بن عبد الرحمن سے اور انہوں نے ام سلمہ سے روایت کیا ہے، حالانکہ حارث کے حالات نہیں ملے اور نہ معلوم ہے کہ انہوں نے ام سلمہ سے سنا یا نہیں۔ مصنف کے ہاں آگے (3771) میں انہوں نے اس کا نام "حارث بن عبد اللہ بن زمعہ" بتایا ہے اور اسے اپنے باپ کے واسطے سے ام سلمہ سے روایت کیا ہے۔ بیہقی نے "الدلائل" (1/ 177) میں اس کی کنیت "ابو حویرث" ذکر کی ہے۔