المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
213. تفسير سورة الفرقان
سورۂ الفرقان کی تفسیر
حدیث نمبر: 3560
وأخبرنا أبو العبَّاس المحبُوبي، حدثنا أحمد بن سيَّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد قال: أخبرني مَن سَمِعَ أنسَ بن مالك قال: قال رجل: يا رسول الله، ﴿الَّذِينَ يُحْشَرُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ﴾ [الفرقان: 34] (1) ؟! قال:"إنَّ الذي أَمشاهم على أَرجُلِهم قادرٌ أن يَحشُرَهم على وجوهِهم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد إذا جُمع بين الإسنادين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد إذا جُمع بين الإسنادين، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: جہنمیوں کو چہروں کے بل کیسے چلایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ذات ان کو قدموں کے بل چلانے پر قادر ہے وہ سر کے بل بھی چلا سکتی ہے۔ ٭٭ اگر دونوں سندوں کو جمع کر لیا جائے تو مذکورہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3560]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3560 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) زاد في المطبوع: كيف يحشرون؟
📝 نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں "كيف يحشرون؟" کے الفاظ زائد ہیں۔
(2) إسناده كسابقه، والراوي المبهم عن أنس هو أبو داود السَّبيعي الذي في إسناد سابقه. سفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند پچھلی سند کی طرح (ضعیف) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور حضرت انس سے روایت کرنے والے مبہم راوی وہی "ابو داود سبیعی" ہیں جو پچھلی سند میں تھے۔ سفیان سے مراد سفیان ثوری ہیں۔
وأخرجه الطبري 19/ 12 من طريق خلاد بن يحيى الكوفي، عن سفيان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری (19/ 12) نے خلاد بن یحییٰ کوفی کے طریق سے سفیان سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔