المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
282. ما قل وكفى خير مما كثر وألهى
جو تھوڑا ہو مگر کافی ہو وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور غفلت میں ڈال دے
حدیث نمبر: 3703
أخبرنا أبو الحسين أحمد عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حَدَّثَنَا أبو قلابة الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن عبد الوارث، حَدَّثَنَا هشام بن أبي عبد الله، حَدَّثَنَا قَتَادة، وتلا قول الله ﷿: ﴿وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرَّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَكِن يُنَزَّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ﴾ [الشورى: 27] ، فقال: حَدَّثَنَا خُلَيد بن عبد الله العَصَري، عن أبي الدَّرداء، عن النَّبِيّ ﷺ، قال:"ما طَلَعَت شمسٌ قطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنَبَتيها مَلَكان، إنهما ليُسمِعانِ أهلَ الأرض إلَّا الثَّقَلَين: يا أيها الناسُ، هَلُمُّوا إلى ربِّكم، فإنَّ ما قلَّ وكفى خيرٌ مما كَثُرَ وأَلهى، ولا غَرَبَت شمسٌ قطُّ إِلَّا وبجَنَبَتيها مَلَكانِ يناديان: اللهمَّ عجَّلْ لمُنفِقٍ خَلَفًا، وعَجَّلْ لمُمسِكَ تَلَفًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3662 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3662 - صحيح
ہشام بن ابی عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قتادہ نے یہ آیت پڑھی: وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ ٰلکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ (الشوریٰ: 27) ” اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کر دیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے لیکن وہ اندازے سے اتارتا ہے جتنا چاہے۔“ پھر انہوں نے کہا: خلید بن عبداللہ العصری رحمۃ اللہ علیہ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی دونوں جانب دو فرشتے ہوتے ہیں جن کی آواز انسان اور جنات کے علاوہ روئے زمین کی تمام مخلوقات سنتی ہیں، وہ کہتے ہیں: اے لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ کیونکہ (وہ مال جو) کم ہو لیکن اس سے ضرورتیں پوری ہوتی رہیں، وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور اس سے ضرورتیں پوری نہ ہوں اور جب سورج غروب ہوتا ہے تو اس کے ساتھ بھی دو فرشتے ہوتے ہیں جو ندا دیتے ہیں: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو جلدی بدلہ عطا فرما اور روکنے والے کا مال جلدی ہلاک فرما دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3703]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3703 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل خليد العصري، وأبو قلابة الرقاشي - وهو عبد الملك بن محمد البصري - لا بأس به قوي الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے جس کی وجہ خلید العصری ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی ابو قلابہ الرقاشی (جن کا نام عبد الملک بن محمد البصری ہے) میں کوئی حرج نہیں، وہ قوی الحدیث ہیں۔
وأخرجه أحمد 36/ (21721)، وابن حبان (686) و (3329) من طرق عن قتادة بهذا الإسناد - ولم يذكروا فيه التلاوة، وهي مما انفرد به عبد الصمد عن هشام بن أبي عبد الله الدَّستوائي، فقد رواه عن هشام أبو داود الطيالسي في "مسنده" (1072)، وابنه معاذ الدستوائي عند الطبري في "تهذيب الآثار - مسند ابن عبّاس" 1/ 267 و 269 وابن السُّني في "القناعة" (32)، فلم يذكرا في حديثه التلاوة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (36/ 21721) اور ابن حبان (686 اور 3329) نے قتادہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اس میں آیت کی تلاوت کا ذکر نہیں کیا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: تلاوت کا ذکر صرف عبد الصمد کا تفرد ہے جو انہوں نے ہشام بن ابی عبد اللہ دستوائی سے نقل کیا، کیونکہ ہشام سے ابو داؤد طیالسی نے اپنی "مسند" (1072) میں اور ان کے بیٹے معاذ دستوائی نے (بحوالہ طبری: تہذیب الآثار 1/ 267، 269) اور ابن السنی نے "القناعۃ" (32) میں روایت کیا تو انہوں نے اس حدیث میں تلاوت کا ذکر نہیں کیا۔
ويشهد لآخره في الدعاء للمنفق والممسك حديث أبي هريرة عند البخاري (1442) ومسلم (1010)، لكن بذكر الإصباح مكان الغروب.
🧩 متابعات و شواہد: حدیث کے آخری حصے (خرچ کرنے والے اور روکے رکھنے والے کے لیے دعا) کی تائید سیدنا ابو ہریرہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو بخاری (1442) اور مسلم (1010) میں ہے، لیکن اس میں غروب کی جگہ صبح (اصباح) کا ذکر ہے۔
الجَنَبَة: الجانب والناحية. والثَّقلان: الإنس والجن.
📝 نوٹ / توضیح: "الجنبہ" کا معنی ہے: جانب اور کنارہ۔ اور "الثقلان" سے مراد انسان اور جنات ہیں۔