المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
282. ما قل وكفى خير مما كثر وألهى
جو تھوڑا ہو مگر کافی ہو وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور غفلت میں ڈال دے
حدیث نمبر: 3704
حدثني عبد الله بن سعد الحافظ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا أبو كُرَيب، حَدَّثَنَا أبو معاوية، عن الأعمش، عن مجاهد، عن عبد الله بن سَخْبَرة، عن علي قال: ما أصبحَ بالكوفة أحدٌ إِلَّا ناعمٌ، إنَّ أدناهم منزلةً يشرب من ماء الفُرَات، ويجلس في الظِّل، ويأكل من البُرِّ، وإنما أُنزِلَت هذه الآية في أصحاب الصُّفَّة: ﴿وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرَّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَكِن يُنَزَّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ﴾، وذلك أنهم قالوا: لو أنَّ لنا؛ فتَمَنَّوُا الدنيا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3663 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3663 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص بھی کوفہ میں صبح کرتا ہے وہ ذی نعمت ہوتا ہے، ان میں سب سے کم درجہ والا وہ ہے جو فرات کا پانی پیتا اور سائے میں بیٹھتا ہے اور گندم کی روٹی کھاتا ہے اور یہ آیت اصحاب صفہ کے حق میں نازل ہوئی: وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ ٰلکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ (الشوریٰ: 27) ” اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کر دیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے لیکن وہ اندازے سے اتارتا ہے جتنا چاہے۔“ اور یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی تمنا کی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3704]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3704 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ضعيف، وإن كان ظاهر إسناده الصحة، فإنَّ أبا كريب - وهو محمد بن العلاء الهَمْداني - قد سَلَكَ فيه الجادّة فرواه عن أبي معاوية - وهو محمد بن خازم الضرير - عن الأعمش، وخالفه ثلاثة من الثقات الجِبال، وهم ابن أبي شيبة في "مصنفه" 13/ 285، وأحمد بن حنبل في "فضائل الصحابة" (883)، وهنّاد بن السَّري في "الزهد" (699)، فروَوه عن أبي معاوية عن ليث بن أبي سليم عن مجاهد عن ابن سخبرة عن علي، وليث سيئ الحفظ ضعيف في التفرد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "ضعیف" ہے، اگرچہ اس کی سند بظاہر صحیح معلوم ہوتی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو کریب (محمد بن علا ہمدانی) نے اس میں عام راستے (جادّہ) کو اختیار کرتے ہوئے ابو معاویہ (محمد بن خازم ضریر) سے اور انہوں نے اعمش سے روایت کر دیا، حالانکہ تین جلیل القدر ثقہ راویوں نے ان کی مخالفت کی ہے۔ وہ تینوں ابن ابی شیبہ "المصنف" (13/ 285)، امام احمد "فضائل الصحابہ" (883) اور ہناد بن سری "الزہد" (699) ہیں جنہوں نے اسے ابو معاویہ سے، انہوں نے لیث بن ابی سلیم سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن سخبرہ سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ چونکہ لیث کا حافظہ خراب تھا اس لیے وہ تفرد میں ضعیف ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (9848) عن أبي عبد الله الحاكم، بإسناده ومتنه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (9848) میں ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔