🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
316. أخلاقه صلى الله عليه وآله وسلم
نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ حسنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3776
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن مُسلِم الأعور، عن أنس بن مالك قال: كان رسول الله ﷺ يَعُودُ المريض، ويَتْبعُ الجنازة، ويجيبُ دعوةَ المملوك، ويَركَبُ الحِمار، ولقد كان يومَ خَيبَرَ ويومَ قُرَيظةَ على حمارٍ خِطامُه حبلٌ من لِيف، وتحته إكَافٌ من لِيف (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3734 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریضوں کی عیادت کیا کرتے تھے، جنازوں میں شرکت کرتے تھے، غلاموں کی دعوت قبول فرماتے تھے۔ گدھے پر سواری کر لیا کرتے تھے، فتح خیبر اور قریظہ کے دن بھی آپ گدھے پر سوار تھے، اس کی لگام کھجور کی چھال کی بنی ہوئی رسی تھی اور آپ کے نیچے پالان بھی کھجور کی چھال کا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3776]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3776 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذ إسناد ضعيف لضعف مسلم الأعور: وهو مسلم بن كيسان المُلَائي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے، لیکن یہ سند مسلم الاعور (مسلم بن کیسان ملائی) کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
جرير: هو ابن عبد الحميد.
📝 نوٹ / توضیح: جریر سے مراد ابن عبد الحمید ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (2296) و (4178) عن عمرو بن رافع، عن جرير، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2296، 4178) نے عمرو بن رافع عن جریر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه مختصرًا (2296) من طريق سفيان بن عيينة، والترمذي (1017) من طريق علي بن مسلم، كلاهما عن مسلم الأعور، به - واقتصر سفيان على قصة إجابته دعوة المملوك، وسيأتي من طريق سفيان برقم (7306) بأطول ممّا عند ابن ماجه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2296) نے مختصراً سفیان بن عیینہ سے اور ترمذی (1017) نے علی بن مسلم سے، دونوں نے مسلم الاعور سے روایت کیا۔ سفیان نے صرف مملوک کی دعوت قبول کرنے پر اکتفا کیا۔ سفیان کے طریق سے یہ آگے (7306) پر ابن ماجہ سے زیادہ طویل آئے گا۔
وأخرج أبو نعيم في "حلية الأولياء" 5/ 22 من طريق محمد بن طلحة بن مصرِّف، عن أبيه، عن أنس قال: رأيت النَّبِيّ ﷺ يوم حنين على حمار خطامه من ليف. وقال: غريب من حديث طلحة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم نے "حلیہ" (5/ 22) میں محمد بن طلحہ عن ابیہ عن انس کے طریق سے روایت کیا کہ نبی ﷺ حنین کے دن خچر پر تھے جس کی لگام کھجور کی چھال کی تھی۔ اسے "غریب" کہا۔
وأخرج البغوي في "شرح السنة" (3674) من طريق روّاد بن الجراح، عن الحسن بن عمارة، عن ثابت البناني، عن أنس قال: رأيت رسول الله ﷺ يركب الحمار العُرْي، ويجيب دعوة المملوك، وينام على الأرض ويجلس على الأرض، ويأكل على الأرض. وإسناده ضعيف لضعف الحسن بن عمارة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بغوی "شرح السنة" (3674) میں رواد بن جراح عن حسن بن عمارہ عن ثابت عن انس سے روایت کیا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن بن عمارہ کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
ويشهد لكون النَّبِيّ ﷺ كان يعود المرض ويتبع الجنائز: حديث عثمان بن عفان قال: كان رسول الله ﷺ يعود مرضانا، ويتبع جنائزنا. أخرجه أحمد 1/ (504)، وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: نبی ﷺ کے مریض کی عیادت اور جنازے کے ساتھ چلنے پر عثمان بن عفان کی حدیث شاہد ہے (احمد: 1/ 504)، جس کی سند "حسن" ہے۔
وحديث سهل بن حنيف التالي عند المصنّف.
🧩 متابعات و شواہد: اور سہل بن حنیف کی حدیث جو مصنف کے ہاں آگے آ رہی ہے۔
ويشهد لإجابته دعوة المملوك: حديث ابن عبَّاس قال: كان رسول الله ﷺ يجلس على الأرض، ويأكل على الأرض، ويعتقل الشاة، ويجيب دعوة المملوك على خبز الشعير. أخرجه الطبراني (12494)، وإسناده ضعيف، وحسّنه الهيثمي في "مجمع الزوائد" 9/ 20.
🧩 متابعات و شواہد: مملوک کی دعوت قبول کرنے پر ابن عباس کی حدیث شاہد ہے (طبرانی: 12494)، جس کی سند ضعیف ہے مگر ہیثمی (9/ 20) نے اسے "حسن" کہا۔
وحديث جابر بن عبد الله عند البزار (2463 - كشف الأستار)، وإسناده ضعيف، وحسّنه الهيثمي أيضًا. ويشهد لركوبه ﷺ الحمار: حديث علي بن أبي طالب أنَّ رسول الله ﷺ كان يركب حمارًا اسمه عُفير. أخرجه أحمد 2/ (886)، وفي إسناده ضعف.
🧩 متابعات و شواہد: اور جابر بن عبد اللہ کی حدیث (بزار: 2463) بھی ہے، اس کی سند ضعیف ہے مگر ہیثمی نے اسے بھی "حسن" کہا۔ گدھے پر سواری کے بارے میں علی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے (احمد: 2/ 886) کہ آپ ﷺ عفیر نامی گدھے پر سوار ہوتے تھے، اس کی سند میں ضعف ہے۔
وحديث معاذَ بنَ جبل قال: كنت رِدفَ النَّبِيّ ﷺ على حمار يقال له عُفير فقال: "يا معاذ، هل تدري حقَّ الله على عباده ..... " أخرجه البخاري (2856)، ومسلم (30) (49).
🧩 متابعات و شواہد: نیز معاذ بن جبل کی حدیث (بخاری: 2856، مسلم: 30) کہ میں عفیر نامی گدھے پر نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھا...۔